سراج الحق نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان

  • Bookmark and Share
سراج الحق کی درویش صفت طبیعت اور مجاہدانہ اوصاف کی بدولت تحریکی اورعوامی حلقوں میں انکو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ میٹرک تک بنیادی تعلیم مختلف سکولوں میں حاصل کی جس کے بعد گورنمنٹ ڈگری کالج تیمر گرہ سے بی اے کی ڈگری لی، پشاور یونیورسٹی سے بی ایڈ اور پھر ایم اے کیا۔ تعلیمی دور میں اٹھویں جماعت سے ہی کالجز یونیورسٹیز کی سطح پر ملک گیر تنظیم (اسلامی جمعیت طلبہ) سے وابستہ ہوگئے۔ تین سال صوبہ سرحد جمعیت کے ناظم رہے ۔بعد ازاں1998ءمیں اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ناظم اعلیٰ بنے۔ تعلیمی مراحل سے فراغت کے بعد جب عملی میدان میں گئے تو تقریبا ایک سال جماعت اسلامی کے کارکن کے طور پر کام کیا بعد میں رکن بن گئے۔ ایک سال ضلع دیر میں جندول کے علاقہ میںرکن کی ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ پھر جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے سیکرٹری جنرل کے طور پر فرائض سرانجام دیتے رہے ۔ اکتوبر2002ءکے انتخابات میں دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کی حکومت کے قیام کے ساتھ ہی بطور سینئر وزیر حکومت میں چار سال فرائض سرانجام دیے۔بعد ازاں 2003ءمیںجماعت اسلامی صوبہ سرحد کے امیر بنے۔ جماعت اسلامی صوبہ سرحد کی گراں بار ذمہ داری آپ نے احسن انداز میں نبھائی ۔اپریل 2009میں جماعت اسلامی کے مرکزی انتخاب کے بعد انہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے نائب امیر کی ذمہ داری سونپی،جسے وہ بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔ متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت میں آپ نے جو موثر کردار ادا کیا اس کے اپنے اور بیگانے سب ہی معترف ہیں۔ کئی غیر ملکی اداروں نے صوبہ سرحد میں اپنے سروے رپورٹوں میں ان کے دورحکومت میں بہترین کارکردگی پر تعریف کی۔ سراج الحق صاحب اردو، انگریزی،فارسی، عربی،پشتو اور دیگر زبانوں پر دسترس رکھتے ہیں۔ پشتو کے علاوہ اردو میں بھی آپ کی تقریر عوامی حلقوں میںپسند کی جاتی ہے۔ آپ جماعت اسلامی اور صوبائی حکومت کی طرف سے مشرق وسطیٰ اورکئی یورپی ممالک کا دورہ کرچکے ہیں۔آپ کی صلاحیتوں اوراہم دینی و سیاسی حیثیت کی بدولت دنیا بھر سے آپ کو عالمی کانفرنسوں میں دعوت دی جاتی ہے۔