کراچی کی صورتحال
قرار داد کراچی کی صورت حال
اجلاس مرکزی مجلس شورٰی جماعت اسلامی پاکستان
منعقدہ 13 تا14اکتوبر 2011 ءمنصورہ لاہور
مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ملک کے سب سے بڑے شہر اور معاشی شہ رگ میں امن و امان کی صورت حال ،اغوا برائے تاوان ،ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں ، بھتہ خوروں اور عوام میں عدم تحفظ پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتاہے۔
کراچی کی تینوں حکمران پارٹیاں عوام میں لڑتی ہیں اور ان کو لڑانے کی کوششیں کرتی رہتی ہیں۔ مگر حکومت کرنے اور سرکاری وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لیے مل جاتی ہیں۔ حکومت عوام کی خدمت اور بلاتفریق خدمت اور امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ہوتی ہے، نہ کہ عوام کو بے وقوف بنانے اور لوٹ مار کے لیے کراچی کی بد امنی کی اصل ذمہ داری حکمران پارٹی کا یہی طرزِ عمل ہے۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی کے حالات پر سوموٹو ایکشن لیا اور عدالتی کاروائی کراچی میں چلائی ، تو قوم یہ اُمید کررہی تھی کہ دہشت گرد بے نقاب ہوں گے اور ایسے فیصلے کیے جائیں گے جس میں ان جماعتوں کے خلاف کاروائی جائے گی جو دہشت گردی کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ لیکن سپریم کورٹ نے بھی حکومت کو کچھ نصیحتیں ہی فرمائیں ، ذمہ داروں کاتعین کرکے فیصلے نہیں کیے۔
اجلاس یہ سمجھتاہے کہ کراچی کو بدامنی کی آگ میں جلانے ،اس کی صنعتوں اور معیشت کو تباہ کرنے کے عمل میں شامل یہ دہشت گرد گروپ پنے بیرونی آقاﺅں امریکا،بھارت کے لیے ”خدمات “انجام دے رہے ہیں۔شہر کے پارکوں ،کھیل کے میدانوں اور مضافاتی علاقوں پر ان جماعتوں کے افراد قبضہ کرلیتے ہیں اور حکومت کچھ نہیں کرتی ۔
اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ :
1۔ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہاتھوں کو بے نقاب کیا جائے۔دہشت گردی کرنے والے تمام مجرموں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرتے ہوئے گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔
2۔ 12ربیع الاول ،12مئی 2004ء،12مئی 2007ئ،9اپریل 2008ء،18۔اکتوبر 2007ء،سانحہ عاشورہ ، سانحہ چہلم اور سانحہ بولٹن مارکیٹ سمیت ٹارگٹ کلنگ اور سانحات کے تمام ذمہ دار ان کو سامنے لایا جائے۔ اور قاتلوں کو گرفتار کیا جائے
3۔ کراچی کو اسلحے سے پاک کیا جائے ۔
4۔ کراچی کے پارکوں اور قیمتی زمین کوگزشتہ عرصے میں حکومتی پوزیشن سے فائدہ اٹھا کر ہتھیالیا گیاہے اور اپنے کارکنوں کو تقسیم کیاگیاہے۔ انہیں ان مافیاﺅں کے ناجائز قبضے سے آزاد کروایا جائے ۔
5۔ کراچی پولیس اور ریاستی اداروں میں حکومتی جماعتوں کے افراد کی تقرریوں کا خاتمہ کیاجائے۔
6۔ بھتے کی پرچیاں تقسیم کرنا اور گن پوائنٹ پر بھتہ وصول کرنے کے عمل کو کنٹرول کیاجائے ۔ عوام کو بھتہ خوروں کے مقابلے میں تحفظ فراہم کیا جائے ۔ کراچی شہر کو بھتہ خوروں سے نجات دلائی جائے ۔
7۔ گذشتہ دنوں سندھ رینجرز نے جن ٹارگٹ کلرز ،قاتلوں کو گرفتار کیاہے انہیں قوم کے سامنے لایا جائے، فوری عدالتی کاروائی کرکے کیفرکردار تک پہنچایا جائے ۔ ٹارگٹ کلرز کے بھارتی را سے رابطوں کے تناظر میں ان جماعتوں پر پابندی عائد کی جائے۔