مسئلہ کشمیر سے متعلق قرارداد
مسئلہ کشمیرسے متعلق قرارداد
مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان
منعقدہ 8تا10فروری2010ءمنصورہ لاہور
جماعت اسلامی پاکستان مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس مقبوضہ جموںوکشمیر میں بھارتی درندگی اور انسانی حقوق کی پامالی کی تازہ لہرکی شدید مذمت کرتاہے۔ جس کے نتیجہ میں نوجوانوں بالخصوص طلبہ کو نشانہ بنا کر شہید کیا جا رہاہے۔ جس پر عالمی انسانی حقوق کے اداروں نے بھی سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لیکن بھارت ڈھٹائی کے ساتھ سارے ردعمل کونظر انداز کرتے ہوئے ریاستی تشدد میں اضافہ کرتاچلا جا رہاہے۔ بھارت کی اس نسل کشی کی پالیسی کے نتیجہ میں گزشتہ بیس سال کے دوران میں ایک لاکھ کشمیری مسلمان شہید ہوچکے ہیں۔ جن میں سے دس ہزار گمشدہ نوجوانوں کی قبریں حال ہی میں دریافت ہوئی ہیں جنہیں وقتاً فوقتاً گھروں سے اٹھایا گیا اور بدترین تعذیب و تشدد کے بعد شہید کیاگیا۔ ظلم اور جبر کی اس لہر پر پردہ پوشی کے لیے بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں ،میڈیا اور ریلیف ایجنسیوں کے داخلے پر پابندی ہے اور دوسری طرف لاکھوں کنال زمین پر فوج نے زبردستی ناجائزقبضہ کرتے ہوئے مالک اور قابض کشمیریوں کو بے دخل کرکے بے روزگار کردیا ہے ۔ اس سلسلہ میں احتجاج کی لہر کو روکنے کے لیے قائد حریت سید علی گیلانی اور دیگر حریت قائدین کو قید و بند کے ذریعہ ان کی نقل و حرکت کو بھی محدود کردیاگیاہے ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ان دلخراش حالات سے عالمی برادری بھی لا تعلق ہے اور حکومت پاکستان بھارت کے ان مظالم کو بے نقاب کرنے کی بجائے مجرمانہ سکوت اختیار کئے ہوئے ہے۔لا تعداد نام نہاد جامع مذاکرات ہمیشہ بے نتیجہ ثابت ہوئے کیونکہ حکومت پاکستان کی اپنے موقف سے پسپائی اور اعتماد سازی کے اقدامات کے باوجود بھارت مسئلہ کشمیر پر نہ صرف بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہے بلکہ اس کی فورسز نے سیز فائر لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ ایک مرتبہ پھر شروع کردیا ہے اور بین الاقوامی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے حال ہی میں سیکرٹری سطح پر مذاکرات شروع کرنے کی جو پیشکش کی گئی ہے اس کے ایجنڈے میں بھی مسئلہ کشمیر کی بجائے جزوی نکات شامل کئے گئے ہیں اور اس پیشکش سے جس کی بھارتی وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دے کر واضح کردیا ہے کہ وہ مذاکرات میں کتنا سنجیدہ ہے ۔
مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس حالات کی اس سنگینی پر حکومت پاکستان کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ بھارت کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ڈکٹیٹر مشرف کی اختیار کردہ پالیسی کے منحوس سائے سے نکلے اور قومی پالیسی کا احیاءکرے جس پر قیام پاکستان سے لے کر اب تک پوری قوم کا اتفاق ہے کہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے ۔ 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پرایک بار پھر قوم نے اپنے اس موقف کی تجدید کی ہے۔ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھے اور ہر محاذ پر پورے اعتماداور جرات سے پاکستان کے اصولی موقف کاموثر طور پر اظہار کرے اور بھارت کو مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے روکنے اور جموںوکشمیر کے عوام کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے عالمی رائے عامہ کو متحرک کرنے کے لیے جامع حکمت عملی طے کرے ۔ نیز بھارت سے مذاکرات اسی صورت میں کئے جائیں کہ !
(i)۔بھارت ریاست جموںو کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرے ۔
(ii)۔مذاکرات جزوی مسائل کی بجائے اصل مرکزی ایشویعنی مسئلہ کشمیرپر ہوں۔
(iii)۔فوجی انخلاءاور کالے قوانین کے خاتمے کا اعلان کرے ۔
(vi)۔ہزاروں کشمیری سیاسی قیدیوں کی رہائی کا اہتمام کرے ۔
اجلاس اقوام متحدہ ،O.I.C سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں سے بھی اپیل کرتاہے کہ وہ بھارت کو ان مظالم سے باز رکھنے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے میں موثر کردار ادا کریں۔
اجلاس 5فروری یوم یکجہتی کشمیر کے شاندار اہتمام پر پوری قوم کو خراج تحسین پیش کرتاہے اور اہل کشمیر کو یقین دلاتاہے کہ جماعت اسلامی پاکستان اور پوری پاکستانی قوم حق خودارادیت کی مبنی برحق جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ ہے ۔