عالم اسلام

  • Bookmark and Share

 

قرار داد عالم اسلام

 

مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان

 

منعقدہ13تا14 اکتوبر 2011منصورہ لاہور

 

 

 

جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس عالم اسلام میں جاری عوامی انقلابات کی تحریکوں کو مبارک باد اور خراج تحسین پیش کرتے ہوئے رب ذوالجلال سے ان کی حقیقی کامیابی اور حفاظت کی دعا کرتاہے۔

 

کئی کئی عشروں سے عوام کی گردنوں پر مسلط ڈکٹیٹروں نے اپنے بیرونی آقاں کی اندھی اطاعت، ناجائز صہیونی ریاست کی حفاظت، ملکی دولت وثروت کی لوٹ مار اور عوام سے جینے کا حق چھیننے کے علاوہ کوئی خدمت انجام نہیں دی۔ تیونس ، لیبیا،مصر،یمن اور شام میںسے کوئی ملک بھی ایسا نہیں ہے کہ جہاں ایک ہی خاندان کئی کئی عشروں سے سیاہ و سفید کا مالک نہ بنا بیٹھا ہو۔ تیل کے سٹریٹیجک ہتھیار، موثرمحل وقوع ،روشن تاریخ اور محنتی عوام کی نایاب دولت رکھنے کے باوجود، ان درندہ صفت حکمرانوں نے اپنے ملک و قوم کو تباہی اور ذلت ومحرومی کے علاوہ کچھ نہ دیا۔ خدا کا شکر ہے کہ بالآخر مظلوم عوام نے اپنی قوت کا رازسمجھ لیا ۔ قومی وحدت اور قربانیوں کی راہ اختیار کی اور دیکھتے ہی دیکھتے جبر و تکبر کی علامت کرپٹ حکمران، ریت کے گھروندے کی طرح ڈھے گئے ۔ بے نوا عوم ان برادر اسلامی ممالک کی سب سے بڑی سیاسی قوت ثابت ہوئے اور اب وہ اپنی قربانیوں کے اصل ثمرات حاصل کرنے کی جانب گامزن ہیں۔

 

اکیسویں صدی کے آغاز میں ہونے والی ان بڑی تبدیلیوں نے عالم اسلام کو تاریخ کے ایک نئے اور اہم موڑ پر لا کھڑا کیاہے۔ دنیا کا کوئی تجزبہ کار ان اچانک روپذیر ہونے والی تبدیلیوں کا اندازہ نہ کرسکا۔ عالمی طاقتیں پہلے تو ششدرہ گئیں اورپھر ان تبدیل شدہ زمینی حقائق کو اپنے مفادات سے ہم آہنگ کرنے کی سازشوں میں لگ گئیں ۔ ان کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ان ملکوں پردوبارہ فوجی اقتدار، نیٹو اور دیگر عالمی طاقتوں کی مداخلت یا اپنے دست آموز تازہ دم ڈکٹیٹر مسلط کردیئے جائیں۔

 

جماعت اسلامی کی شوریٰ کا یہ اجلاس اپنے تمام سربلند برادر مسلم عوام سے اپیل کرتاہے کہ وہ شاندار کامیابیوں کی پہلی منزل طے کرلینے کے بعد ہی کمرہمت کھول کر نہ بیٹھ جائیں ۔ کامیابیوں کی حفاظت کا میابیوں کے حصول سے بھی زیادہ اہم اور مشکل ہوتی ہے۔ قومی وحدت اور ہزاروں افراد کی شہادت نے انہیں فرعون صفت حکمرانوں سے نجات دلائی ہے۔ اب اللہ کی توفیق سے یہی راستہ انہیں حقیقی طور پر کامیاب انقلاب کی منزل تک پہنچائے گا۔

 

یہ اجلاس ڈکٹیٹرحکمرانوں سے نجات حاصل کرلینے والے تینوں ممالک کے عبوری حکمرانوں سے بھی مطالبہ کرتاہے کہ وہ اپنے پیش رو حکمرانوں سے عبرت حاصل کریں ۔ آزادانہ ،منصفانہ اور حقیقی انتخابات کے ذریعے، منتخب حکومت کو زمام اقتدار سونپیں اور اپنے ممالک کو کامیابی کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے اپنا نام تاریخ میں روشن کرلیں ۔

 

یہ اجلاس یمن اور شام کے حکمرانوں سے بھی پرزور مطالبہ کرتاہے کہ وہ صرف اپنی کرسی کی خاطر مزید ہزاروں بے گناہوں کا خون اپنے سر نہ لیں۔ ان کے عوام نے انہیں مکمل طور پر مسترد کردیا ہے ۔ تقریباً نصف صدی کی ناکام حکمرانی اور سفاکانہ مظالم، ان کے خلاف سب سے بڑی فرد جرم ہے۔ یہ حکمران جان لیں کہ مزید ظلم اور قتل وغارت ان کے اقتدار کو زیادہ دیر باقی نہیں رکھ سکتا۔

 

یہ اجلاس قبلہ اول اور مقبوضہ فلسطین کی آزادی کے لیے کوشاں عوام کے ساتھ بھی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتاہے اور اس حقیقت کا اعادہ کرتاہے کہ آزادی اقصیٰ کا راستہ صرف جہاد کے میدانوں سے گزرتاہے ۔ گذشتہ 64سال سے غاصب صہیونیوں کے ساتھ مذاکرات نے، القدس کی آزادی کی راہ کھوٹی کرنے اور فلسطینی عوام کو باہم لڑانے کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ حال ہی میں محمود عباس کی طرف سے فلسطین کو اقوام متحدہ کے ذریعے تسلیم کروانے کی قرار داد کا نتیجہ بھی پہلے سے معلوم تھا۔ فلسطینی سرزمین پر یہودی بستیوں کی تعمیر اسی طرح جاری ہے۔ مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کو ششیں عروج پر ہیں، غزہ مکمل حصار میں ہے، لیکن سستی شہرت کی خاطر فلسطینی عوام اور ان کی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر، صرف چند افراد نے ایک ایسی قرار دا د پیش کردی جس کی بنیاد ہی امریکی ویٹو کے اعلان پر رکھی گئی تھی ۔ یہ اجلاس تمام فلسطینی رہنماں سے اپیل کرتاہے کہ وہ آزادی اقصیٰ کے اصل ایجنڈے پر متحد اور یکجا ن ہوتے ہوئے، مشترک حکمت عملی اختیار کریں ۔ پوری امت مسلمہ اپنے فلسطینی بھائیوں کے اتحاد کی پشتیبان بنے گی ۔

 

 یہ اجلاس مصر کی عبوری حکومت سے بھی پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ سابق ڈکٹیٹر حکمران کی صہیونیت نواز پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے رفح بارڈر کھولنے اور غزہ کا حصار ختم کرنے کا اعلان کرے۔ اہل غزہ آج بھی زیرزمین سرنگوں کے ذریعے اپنی روز مرہ ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ اجلاس خطے میں مذہبی ، نسلی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم درتقسیم کے ناپاک عالمی ایجنڈے کی بھی پُر زور مذمت کرتاہے ۔ افغانستان اور عراق کے بعد خطے کے تمام ممالک میں اختلافات کی اسی آگ کو بھڑکایا جارہاہے اور تصادم کی سمت دھکیلنے کے لیے نت نئے حربے استعمال کیے جارہے ہیں جو خطرے کی گھنٹی ہے۔ مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس اپنے تمام برادر ممالک سے اپیل کرتاہے کہ وہ کسی اندرونی یا بیرونی طاقت کو علاقائی امن سے کھیلنے کی اجازت نہ دے ۔ پاکستان اور ترکی سمیت اہم مسلمان ملک مل کر علاقائی اور مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔ اختلافات کی یہ خطرناک چنگاریاں پاکستان سمیت تمام علاقائی ممالک کے لیے انتہائی مہلک ہیں۔جماعت اسلامی کی نگاہ میں یہ وقت عالمی سامراجی قوتوں کے خطرناک کھیل کو ناکام کرنے اور اُمت مسلمہ کو اس کے تاریخی کردار کی ادائیگی کے لائق بناناہے جو ہمارے دین و ایمان اور اُمت کی آزادی اور فلاح کا ضامن ہو۔