تحفظ ناموس رسالت
قرارداد۔۔۔ تحفظ ناموس رسالت
اجلاس مرکزی مجلس شورٰی جماعت اسلامی پاکستان
منعقدہ 13۔14 اکتوبر2011ء
پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے ۔اس میں 18کروڑ عاشقان رسول بستے ہیں ۔ قیام پاکستان کے بعد اس کے اسلامی یا سیکولر ریاست ہونے کی کشمکش میں اللہ کے فضل سے قرار داد مقاصد کی منظوری ہماری پہلی نظریاتی کامیابی تھی ۔ اسلامی دفعات کے ساتھ تمام دستوروں کی منظوری ایک بڑی جمہوری فتح ہے ۔ قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی جدوجہدکے پہلے مرحلہ میں بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابولاعلیٰ مودوددیؒ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی اور دوسرے مرحلہ میں قائدین و کارکنان نے جیل جا کر دستوری ترمیم منظور کروالیں اور اس طرح الحمدللہ ختم نبوت کے تحفظ کی جنگ جیت لی گئی ۔
تحفظ ناموس رسالت کے قانون کی منظوری عاشقان رسول کی بہت بڑی کامیابی تھی لیکن پہلے دن سے اس قانون کے خاتمے کے لیے ملکی و غیر ملکی بے دین قوتوں نے سازشیں کرنا شروع کر دیں ۔ سابقہ تین حکومتوں نے اس قانون کو بدلنے کا اعلان کیا لیکن پاکستان کے عوام نے زبردست ہڑتال و احتجاج کر کے حکمرانوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنادیا ۔ اس حکومت نے بر سراقتدار آنے کے بعدناموس رسالت کے قانون کے خلاف ایک پلاننگ کے ساتھ کام شروع کیا ۔ ملک کے اندر آسیہ مقدمہ کی آڑ میں سلمان تاثیر سابق گورنر پنجاب نے اپنی حیثیت و اختیارات کا غیر قانونی استعمال کرتے ہوئے ناموس رسالت کے قانون کے متعلق نازیبا الفاظ پر مشتمل بیانات دینے شروع کیے ۔ حکومت کا فرض تھاکہ اپنے گورنر کو اس غیر آئینی کردار و بیانات سے روکتی لیکن حکومت وقت کی اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے پوری قوم میں تشویش کا پیدا ہونا اور بڑھنا قدرتی عمل تھا ۔میڈیا کے ذریعہ پاکستانی قوم اور دنیا تک یہ خبر پہنچی کہ ممتاز قادر ی نے جب سلمان تاثیر سابق گورنر پنجاب کے منہ سے خود ناموس رسالت کے قانون کے متعلق نازیبا الفاظ سنے تو وہ عشق رسول کے جذبات سے مغلوب ہو کر اور فوری مشتعل ہو کر ان کو گولی ماردی۔ قوم کے شدید جذبات کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ گورنر ہاﺅس کے عملے سمیت شہریوں کی اس کے جنازہ میں عدم شرکت اور تمام مکاتب فکر کے علما ئے دین کاجنازہ پڑھانے سے انکار نے دنیا پر واضح کر دیا کہ تمام عاشقان رسول متحدہیں۔
مرکزی مجلس شورٰی جماعت اسلامی پاکستان حکمرانو ں کو یاد کروانا چاہتی ہے کہ تین پاکستانیوں کے قاتل ریمنڈ ڈیوس کو رہا کر دیا گیا ۔ مقتولین کے اہل خانہ پر شدید دباﺅ ڈال کر دیت لینے کا ڈرامہ رچایا گیااور کر ان کو گم نامی کی غار میں دھکیل دیا گیا ۔ مقتول کے ورثا کے وکیل کو عدالت میں پیش ہونے سے روک کر امریکی قاتل کی رہائی کو مکمل کیا گیا ۔ امریکی حکومت کی طرف سے دیت کی ادائیگی سے انکار نے حکومت پاکستان کے چہرے سے نقاب ہٹا دیا کہ یہ سارا کام ملکی حکمرانوں نے امریکہ کو خوش کرنے کے لیے کیا تھا ۔ دوسری جانب سربراہ مملکت نے قوم سے خطاب میں سلمان تاثیر سابق گورنر پنجاب کو ہیرو قرار دیا اور پھر عاشق رسول ممتاز قادری کو دو مرتبہ پھانسی کی سزا سنائی گئی ہے جس کی وجہ سے عاشقان رسول کو سخت صدمہ ہواہے ۔ اس مقدمہ میں سزائے موت نے عوام کے اذہان میں کئی سوالات پیدا کیے ہیں ۔ سپریم کورٹ کے این آر او مقدمہ کے احکامات کے تحت سزا اور برطرفی سے ایک وفاقی وزیر کو بچانے کے لیے صدرپاکستان نے فوراً اس کی سزا معاف کر دی ۔ این آر او کے تحت کئی سیاسی جماعتوں کے رہنماﺅں کی سزاﺅں کو ختم کر دیا گیا اور زیر سماعت مقدمات کو ختم کر دیا گیا تھا لیکن عاشق رسول ممتاز قادری کو مقدمہ چلا کر دو مرتبہ سزائے موت کا اعلان افسوسناک ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توہین رسالت کے مجرموں کو قتل کرنے والوں سے کوئی قصاص و دیت نہیں لی تھی یعنی کوئی سزانہ دی تھی ۔ لہٰذا گذشتہ ڈیڑھ ہزار سالہ اسلامی تاریخ کے اجماعی مسلک اور اسلامی قوانین کے مطابق توہین رسالت کے مرتکب کا قتل قانوناً قابل قصاص و دیت جرائم کے زمرے میں نہیں آتا۔
مرکزی مجلس شورٰی جماعت اسلامی مطالبہ کرتی ہے کہ :۔
1۔ عاشق رسول ممتاز قادری کے مقدمہ کو عوامی مفاد میں فوراً واپس لیا جائے یا صدر پاکستان کی طرف سے ماضی کی مثالوں کی طرح اس سزا کو بھی ختم و معاف کرنے کا اعلان کیا جائے ۔
2۔ ناموس رسالت کے قانون کے متن یا طریقہ کار میں کسی تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا جائے ۔
3۔ یورپ اور امریکہ کو واضح طور پر بتا دیا جائے کہ ناموس رسالت کے قانون کے خلاف ہر قسم کے بیانات بند کیے جائیں کیوںکہ یہ پاکستان کے اندر ونی معاملات میں مداخلت ہے ۔