منصوبہ عمل2011ء
.4 اہم ایام:
حسب ذیل ایام ملک گیرسطح پر منا نا ضروری ہے اور ان مواقع پر اضلاع کے تحت بڑے پروگرامات منعقد کرنے کی کوشش کی جائے۔ اوران ایام کو توسیع دعوت کا ذریعہ بنایا جائے۔
۵ فروری یوم یکجہتی کشمیر ماہ ربیع الاول عشرہ سیرت النبی/تحفظ ناموس رسالت
۸مارچ یوم خواتین و خاندان (خواتین کا نظم اس پروگرام کی تفصیلات تیار کرکے آگاہ کرے)
23مارچ یوم پاکستان
14 اگست یوم آزادی
26اگست یوم تاسیس جماعت اسلامی پاکستان
دیگر ایام کی منصوبہ بندی صوبائی نظم اپنی ضرورت اور اہمیت کے مطابق کریں ۔
.5 شباب ملی
5.1 نوجوانوں کا تناسب پاکستان کی آبادی میں نصف سے زائد ہے۔ مستقبل کی کوئی منصوبہ بندی نوجوانوں میں کام کے لیے خصوصی تدابیر سوچے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی ۔ نوجوانوں کو تنظیم میں آگے بڑھانے کی جانب توجہ دی جائے۔ ہر سطح پر جماعت اسلامی میں شمولیت انجذاب اور تنظیم کا حصہ بنانے کے لئے خصوصی تدابیر کی جائیں۔
5.2 جماعت کے اضلاع کا نظم اورشباب ملی پاکستان کے ذمہ داران باہمی مشاورت سے اضلاع میں شباب ملی کا نظم جلد از جلد قائم کرلے ۔
5.3 سابقین اسلامی جمعیت طلبہ و جمعیت طلبہ عربیہ خصوصی ہدف ہو۔
5.4 شباب ملی کا نظم اپنے کام کا تفصیلی منصوبہ عمل تیار کرے۔
.6فہم قرآن والسنہ پروگرام:
6.1 اس شعبے کے تحت قرآن کے ساتھ حدیث اور سیرت رسول ﷺکے بڑے بڑے پروگرام پورے ملک میں ہو رہے ہیں۔ اس سال 8لاکھ افراد فہم دین کے پروگراموں میں شریک ہوئے ہیں۔اسلام کا فہم عام کرنے اور عملی زندگی کو اسلام کے مطابق ڈھالنے میں یہ پروگرام موثر ذریعہ ہیں۔ ان پروگراموں کے ذریعے اقامتِ دین کی جدوجہد میں عوام کی شرکت کو بڑھانے کی کوشش کی جائے ۔ ہر سطح کا نظمِ جماعت ان پروگراموں کی نگرانی کرے ۔
6.2 مطالعہ کے رجحان کو بڑھانے کے لیے یہ شعبہ سٹڈی سرکلز کا بھی اہتمام کرے۔
.7تنظیم:
7.1 مرکز کی قائمہ کمیٹیاں (منصوبہ کمیٹی، سیاسی کمیٹی، میڈیا کمیٹی، معاشی امورکمیٹی ،تعلقات خارجہ کمیٹی، تعلیمی کمیٹی): اپنے اجلاس منعقد کر کے اپنے شعبہ کے متعلق تفصیلی سفارشات اور قراردادیں شوریٰ کے عمومی اجلاس سے قبل مرکز کو ارسال کریں گی۔ یہ تجاویز شوریٰ کے اجلاس میں پیش ہوں گی۔
7.2 مرکز جماعت کے تنظیمی دورے
٭۔وسعت کو سمیٹنے ، تنظیم کو استحکام دینے، اور معاملات کی نگرانی کے لئے تنظیمی دورہ جات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
٭۔نائب امراءاور نائب قیمین کے بھی دورے حسب ضرورت رکھے جائیں گے۔
7.3۔ملک بھر میں یونین کونسل کی سطح پر جماعت اسلامی کے نظم کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔ الیکشن میں مجوزہ حلقوں میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ، پولنگ سٹیشن کی سطح پر رابطہ کمیٹیاں بنائی جائیں۔
.8تربیت:
8.1 تربیت کے بہتر اور موثر نظام ہی کے ذریعے فکراور سوچ میں پختگی ،کردار و عمل کو تقویٰ کے سانچے میں ڈھالا جاسکتاہے۔
8.2 ضلعی سطح کی قیادت کی تربیت اور تفہیم منصوبہ کے لیے مرکز کے تحت ایک تربیت گاہ26،27فروری 2011ئکو منعقد کی جائے گی۔
8.3 ہر ضلع ہر ماہ کم ازکم تین افراد مرکزی تربیت گاہ میں شرکت کے لیے بھجوائے گا ۔ اضلاع کسی خاص ماہ بڑی تعداد میں شرکت کے لیے ایک ماہ قبل اپنے اس پروگرام سے مطلع فرمائیں گے ۔نیز ہر ضلع میں ایک تربیت گاہ منعقد ہوگی ۔
.9 قومی اُمور ، سیاسی کرداراور انتخابات :
9.1 تحریک اسلامی نے دعوت اور تبدیلی قیادت کے لئے ملکی انتخابات میں حصہ لینے کو اپنے طریق کار میں مرکزی حیثیت دی ہے۔ اس اصول کے پیش نظر وقفہ وقفہ سے ہونے والے انتخابات کے لئے مناسب اور موثر اقدامات کرنا ضروری ہےں۔
9.2 مرکزی شعبہ انتخاب کو موثر اور فعال بنایا جائے گاتاکہ ملک بھر کے انتخابات کی تیاریوں میں راہنمائی ،تربیت اور مانیٹرنگ کی جاسکے ۔
9.3 2011ءبلدیاتی الیکشن کا سال ہے ۔جبکہ ملکی انتخابات کسی بھی وقت متوقع ہیں۔ اس لئے جماعت کی ترجیح اول اپنے لوگوں کو اسمبلی تک پہنچانا ہے۔ یہ انقلاب امامت کاتقاضا ہے۔ اس کے بغیر نظریاتی ،دعوتی اور سیاسی ایجنڈے پر کماحقہ عمل ممکن نہیں ۔
9.4 اضلاع ابھی سے انتخابات کے لئے اپنی تیاری کاآغاز کریں اور انتخابی حلقے متعین اورامید وار طے کئے جائیں، دعوتی مہم اور رابطہ عوام کابھرپور آغاز کردیاجائے تاکہ انتخاب میں حصہ لینے کی تیاری بر وقت مکمل ہوسکے ۔
9.5 کم سے کم پچاس فیصد یونین کونسلز کے انتخابات میں حصہ لینے کا ہدف ہوگا۔
9.6 ووٹر لسٹ میں اندراجات اور تصحیح کروانے کے کام میں توجہ دی جائے۔ مرکزی شعبہ انتخاب اس سلسلہ میں خصوصی منصوبہ بندی کرے گا۔
9.7 جماعت اسلامی کے لئے اپنے انتخابی نشان کے حصول کی کوشش کی جائے گی ۔
9.7 آزاد الیکشن کمیشن کے قیام کے لیے حکومت پر دباﺅ بڑھایا جائے گا۔
.10 نشرواشاعت اور میڈیا :
10.1 میڈیا کے حوالے سے بڑے شہروں میں خصوصی توجہ دی جائے ۔
10.2 مرکزی ، صوبائی اور بڑے شہروں میں میڈیا سیل کو موثر بنایا جائے گا۔
10.3 میڈیا سیل میں کام کرنے والے افراد کی تربیت کی جائے گی تاکہ وہ میڈیا کے ذریعہ جماعت کی دعوت کو عام کرنے اورساتھ ہی روز مرہ کی سرگرمیوں کی کوریج میں اضافہ کاذریعہ بن جائیں۔
.11برادر تنظیمات:
11.1 مرکز کے تحت برادرتنظیمات کے ذمہ داران کا اجلاس فروری کے آخر میں منعقد ہوگا۔جبکہ سال کے دوران ہر برادر تنظیم کے ذمہ داران کا مرکزی نظم کے ساتھ کم ازکم ایک مرتبہ باقاعدہ رابطہ اور نشست کا اہتمام کیا جائے گا۔اسی طرح صوبے بھی برادر تنظیمات کے ششماہی اجلاس منعقد کریں ۔
.12 الخدمت:
12.1 اضلاع کی سطح تک الخدمت کو مستحکم اور پیشہ وارانہ بنیاد پر منظم کیا جائے گا۔ پاکستان کا قابل اعتماد فعال اور منظم ادارہ بنایا جائے گا۔ بڑے پیمانے پر جماعت کے دائرے سے باہر بااثر افراد سے تعاون لیا جائے گا ۔ ان کے ذریعے ہی رضا کار افرا دکی ایک ٹیم کام کے لیے تیار کی جائے گی ۔
12.2 الخدمت کے کام کو توسیع دعوت کا ذریعہ سمجھا جائے اور اسی تصور کے ساتھ حکمت عملی بھی ترتیب دی جائے۔
.13علماءومدارس :
13.1 بدلتے ہوئے حالات میں دینی مدارس کی اہمیت بڑھ گئی ہے ۔ لہٰذا جماعت کو بھی مدارس قائم کرنے کی طرف توجہ میں اضافہ کی ضرورت۔
13.2 ضلع میں قائم تحریکی دینی مدرسے کی سرپرستی اور مالی معاونت کی جائے اور ان کے مسائل حل کرنے میں ان کی مدد کی جائے ۔
13.3 علماءاور ائمہ مساجد سے روابط مزید بڑھانے اور مستحکم کرنے کی کوششیں کی جائیں ۔
13.4 شعبہ مساجد و مدارس ان امور کے لیے منصوبہ تیار کرلیں ۔
.14 مالیات :
14.1 بیت المال کو مستحکم کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس لئے ہر سطح کی اعانتوں میں پچاس فیصد اضافے کی کوشش کی جائے اور دیہی علاقوں میں عُشر جمع کرنے کی طرف توجہ دی جائے ۔
14.2 2011ءتک اضلاع کا آڈٹ مکمل کرایا جائے گا۔
14.3 چاروں صوبوں میں ضلعی ناظمین مالیات کی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد ۔
15۔حلقہ خواتین:
15.1 خواتین ہمارے معاشرے کا نصف ہیں عوامی سروے یہ بتا رہے ہیں کہ خواتین میں دین کی طرف ایک زبردست رجوع موجود ہے۔ یہ اس بات کا متقاضی ہے کہ خواتین کو جماعت کی دعوت کا خصوصی ہدف بنایا جائے ۔
15.2 مزیدشہروں اور دیہاتوں میں کام کو منظم کیا جائے۔
15.3 تعلیم یافتہ خواتین ،ورکنگ ویمن اور معلمات کو ہدف بناکر کام کیا جائے ۔
16۔ سرویز:
16.1 جماعت اسلامی کے پیغام کو پھیلانے کے لئے حکمتِ عملی طے کرنے اور عوامی رائے عامہ کو جانچنے کے لئے سروے ممد و معاون ہوں گے ۔
16.2 رائے عامہ معلوم کرنے کے لئے سال میں دو سروے کروائے جائیں گے۔
16.2 جماعت کے ارکان سے بھی سروے کروایا جائے گا۔
17۔ ترغیبات ویاددہانی :
17.1 ہر سطح کی قیادت ، ارکان اور کارکنان کی انفرادی اصلاح و تزکیہ توجہ طلب ہے۔
17.2 اللہ کی نصرت اور اسلامی انقلاب کی جدوجہد میں برکت کے لیے ذاتی معاملات میں جھول اور کمزوریوں کا دور کرنا نہایت ضروری ہے۔
17.3 ناظرہ قرآن پڑھنے اور تفہیم القرآن کا مطالعہ بڑھانے پر توجہ ہو۔
17.4 دینی جذبے کے ساتھ رفقاءجماعت کے ساتھ تعلقات استوار کرنا۔
17.5 اہل خانہ کی اصلاح کو اپنا فرض سمجھنا اور دینی ثقافت کو فروغ دینا۔
17.6 مسجد سے خصوصی تعلق اور حلقہ احباب قائم کرنا۔
17.7 اپنی آمدنی کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا ۔
17.8 جماعت کے جرائد و رسائل کے مطالعہ پر توجہ دی جائے ۔
17.9 اطاعت نظم کو اپنا شعار بنائے رکھنا ضروری ۔
17.10 افرادی قوت میں اضافہ تنظیم کی ضرورت اور پیش قدمی کے لئے لازمی ہے۔
18۔صوبائی نظم درج ذیل اُمورکے بارے میں منصوبہ بندی کرے :