منصوبہ عمل2011ء
پیش لفظ
منصوبہ عمل 2011
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،اللہ سے ڈرو ،اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیاہے۔
یٰٓاََیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلتَنظُر نَفس مَّا قَدَّمَت لِغَدٍ(الحشر:۸۱)
کل یعنی مستقبل کے بارے میں سوچنا اور خواب دیکھنا انسانی جبلت میں پنہاں وہ حقیقت ہے جسے انسان ہمیشہ بہت اہمیت دیتاچلا آیاہے اور اس کے اندر جھانکنے کے لیے بہت متجسس بھی رہاہے۔ مگر شاید بہت کم لوگ ہوں گے جو اس کی ضرورت کو حقیقی معنوں میں سمجھتے ہوں گے ۔ سوچنے بیٹھوں تو یاد آنے لگے تیرا پتہ ۔ڈھونڈنے نکلوں تو مجھ کو راستہ ملتانہیں کے مصداق متعین حقیقت ہونے کے باوجود مستقبل کے بارے میں حتمی بات کہنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ اللہ رب العزت نے جہاں اس کو ایک راز رکھاہے کسی کو اس کامکمل علم نہیں دیا وہیں انسانوں پر مہربانی فرماتے ہوئے شدید آزمائش سے نکالنے کے لیے کچھ آسانی بھی فرمائی ہے ۔ یعنی مستقبل کا تعلق علم اور عمل کے ساتھ جوڑ دیاہے۔
اِنَّمَا یَخشَی اللّٰہَ مِن عِبَادِہِ العُلَمٰاء(۵۳:۸۲)(جو حقیقی علم رکھنے والے ہیں وہی اللہ سے ڈرتے ہیں ۔(القرآن)
مستقبل ایک عجیب پہیلی ہے کہ اس کی بعینہ پیشین گوئی ناممکن ۔۔۔مگر اس کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنا تقریباًممکن ہے یعنی محض ایک جگہ بیٹھ کر علمی بنیاد پر سہانے مستقبل کی خواہش غلط ،جبکہ عملی میدان میں نکل کر مستقبل کے تقاضوں کے مطابق عمل درآمد درست قرار دیا گیاہے اور اس کے لیے منصوبہ بندی ایک موثر اور معلوم ذریعہ ہے کیونکہ مستقبل کے سہانے اور غیر سہانے موافق اور غیر موافق کا دار و مدار بڑی حد تک اس کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت پر ہے۔ اگر اس حوالے سے مستقبل کے ساتھ ہمارا تعلق زندہ اور عملی ہے تو اس کے ہماری زندگی پر اثرات مختلف ہوں گے ۔ یعنی زندگی میں جوش ، جذبہ ،تحرک اور کامیابی نظر آئے گی لیکن اگر ہمارا اس سے رشتہ واجبی اورکمزور ہوگاتو ہماری زندگی پژمردگی ، ضعف ، اور ناکامی کی علامت بن جائے گی ۔
جماعت اسلامی چونکہ ایک زندہ نظریاتی تحریک ہے اور تمام انسان اس کے براہ راست مخاطب بھی ۔ اس لیے جماعت کے نظام میں منصوبہ بندی کا ایک اخاص مقام ہے کیونکہ جماعت محض تصورات ونظریات کا پرچار نہیں چاہتی بلکہ عملی طور پر ایک نظام اسلامی کا احیاءبھی چاہتی ہے اور یہ یقیناً ایک مشکل کا م ہے ۔ جو مناصب منصوبہ بندی ،حکمت عملی اور عمل درآمد سے سہل بنایاجاسکتاہے ۔ یہ پیش قدمی کا فطری اور عین اسلامی تقاضا بھی ہے ۔ اس سے پہلو تہی نہ صرف ناکامی بلکہ قول و عمل میں تفاوت یعنی
یاََیُّہَا الَّذِینَ اٰمَنُوالِم تَقُولُونَ مَالاَ تَفعَلُونَ (۱۶:۲)کے گناہ کا مرتکب بھی کرسکتی ہے۔
2011ءکا منصوبہ عمل آپ کے ہاتھ میں ہے یہ منزل تک پہنچنے کے لیے ایک سال کا ہدف ہے ۔ یہ ہماری سوچ کاآئینہ دار ہے اور اس کی روشنی میں مختلف سطحوں پر منصوبہ بنانا اور عمل درآمد کے لیے میسر و سائل کو بروئے کارلانا ذیلی نظم کی ذمہ داری ہے۔
امید ہے احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ حسن عمل کی توفیق دے ،آمین۔
والسلام
خاکسار
سید منورحسن
امیرجماعت اسلامی پاکستان
منصوبہ عمل2011ء
.1محور خاص :
وَ نُرِیدُ اَن نَّمُنَّ عَلَی الَّذِینَ استُضعِفُوافِی الاَرضِ وَنَجعَلَھُم اَئِمَّةً وَّ نَجعَلَھُمُ الوٰرِثِینَ
ترجمہ: اور ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ مہربانی کریں اُن لوگوں پر جوزمین میں مظلوم بنا کررکھے گئے ہیں اور انہیں پیشوا بنادیں اور انہی کو وارث بنائیں۔(القصص۸۲:۵)
٭ دین کی سربلندی ،عوامی اُمنگوں کی ترجمانی اور ملک کو لاحق امریکی استعمار کے خطرات کو زائل کرنے کے لئے جماعت اسلامی نے 2009ءسے "امریکی غلامی نامنظور" (گوامریکہ گو)کی تحریک کاآغاز کیا ہوا ہے۔ اس حوالے سے ملک گیر مہم چلائی گئی اور میڈیا کے ذریعہ عوامی رائے کو متحرک رکھا گیا۔ اور اب اللہ کی نصرت ، اُمت مسلمہ کے جذبہ جہاد و اتحاداور تحریک اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں ایسے آثار پیدا ہوگئے ہیں کہ مغربی تہذیب کا سرخیل امریکہ اپنی ابلاغی ، سیاسی ، عسکری اور ریاستی طاقت کے باوجود شکست سے دوچار ہوگا۔ اس طرح انشاءاللہ اس خطہ سے نہ صرف امریکہ بلکہ اس کے وہ حواری بھی رخصت ہوں گے جنہوںنے پچھلی کئی دہائیوں سے نہ صرف پاکستان پر قبضہ جمایا ہواہے ۔ بلکہ 17کروڑ عوام کو امریکی غلامی کے شکنجے میں ڈال رکھا ہے۔
دوسری جانب بدامنی ،بے روزگاری، مہنگائی ،بجلی ،تیل ، گیس کی قیمتوںاور ٹیکسوں میں مسلسل اضافے نے عوام کی کمرتوڑ دی ہے۔ کرپشن کے شرمناک واقعات نے عوام کی اذیت میں اضافہ کردیاہے۔
ان حالات کے باعث ملک میں تبدیلی اور پاکستان کا مستقبل جماعت اسلامی کے نڈر اور ایماندار قیادت سے وابستہ ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیںجبکہ اقامت دین اور حکومت الٰہیہ کا قیام ہی مصیبت زدہ عوام اور مشکلات میں پھنسے ملک کو سہارا دے سکے گی اور ظلم اور جبر کے انہی حالات میں ہمارے لیے پیغام الٰہی یہ ہے کہ
وَنُرِیدُ اَن نَّمُنَّ عَلَی الَّذِینَ استُضعِفُوافِی الاَرضِ وَ نَجعَلَھُم اَئِمَّةً وَّ نَجعَلَھُمُ الوٰرِثِین (القصص۸۲:۵)
فراہمی انصاف ، قیادت اور زمام اقتدار کی تبدیلی کے لئے ہمیں کروڑوں پاکستانیوں کی ہمنوائی حاصل کرناہوگی ۔یہ ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس لئے 2011ءمیں عوامی بے چینی کے اظہار اور امریکی مخالفت کو محض رائے عامہ تک نہ رہنے دیا جائے ۔ بلکہ اپنی ہمنوائی یعنی ووٹ میں تبدیل کیا جائے ۔کیونکہ جماعت اسلامی، حکومت الٰہیہ کے قیام کے لئے پُرامن اور انتخابات کے راستہ پر یقین رکھتی ہے۔ کارکن اس کا عزم باندھ لیں اور اپنے کردار اورمحنت سے یہ ثابت کریں کہ مستقبل کی قیادت و نجات دہندہ جماعت اسلامی اور اس کی قیادت ہی ہے۔
.2اہداف :
٭ جماعت اسلامی کی دعوت اور تعارف کو اڑھائی کروڑ عوام تک پہنچایا جائے گا۔
٭ جماعت اسلامی کی سرگرمیوں میں پچیس لاکھ افراد کو شامل کرنے کے لئے تیار کیا جائے گا۔
.3خصوصی سرگرمیاں:
٭ ملک گیر رابطہ عوام مہم چلائی جائے گی ۔
٭ اجتماع عام ضلعی سطح پرمنعقد کئے جائیں گے ۔ جہاں جہاں ممکن ہو ، صوبے ڈویژن کی بنیاد پر اجتماع عام کا انعقاد بھی کریں گے ۔
٭ امریکی غلامی نامنظور(گو امریکہ گو )مہم میں تیزی لائی جائے گی