اسلام اور سیاست
مذہب اور سیاست
کوئی کہتا ہے کہ تم مذہب کی تبلیغ کرو، سیاست میں کیوں دخل دیتے ہو۔ مگر ہم اس بات کے قائل ہیں کہ "جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی" اب کیا یہ لوگ ہم سے یہ چاہتے ہیں کہ ہماری سیاست پر چنگیزی مسلط رہے اور ہم مسجد میں "مذہب" کی تبلیغ کرتے رہیں؟ اور آخر وہ مذہب کون سا ہے جس کی تبلیغ کے لیے وہ ہم سے کہہ رہے ہیں" اگر وہ پادریوں والا مذہب ہے جو سیاست میں دخل نہیں دیتا تو ہم اس پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور اگر وہ قرآن و حدیث کا مذہب ہے جس پر ہم ایمان رکھتے ہیں تو وہ سیاست میں محض دخل ہی نہیں دیتا بلکہ اس کو اپنا ایک جزو بناکر رکھنا چاہتا ہے۔
کوئی کہتا ہے کہ تم پہلے مذہبی لوگ تھے، اب سیاسی گروہ بن گئے ہو۔ حالانکہ ہم پر کبھی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب ہم غیر سیاسی مذہب کے لحاظ سے "مذہبی"رہے ہوں، اور آج خدا کی لعنت ہو ہم پر اگر ہم غیر مذہبی سیاست کے لحاظ سے سیاسی بن گئے ہوں۔ ہم تو اسلام کے پیرو ہیں اور اسی کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جتنا مذہبی ہے اتنے ہی ہم مذہبی ہیں اور ابتدا سے تھے۔ تم نےنہ کل ہمیں سمجھا تھا جب کہ ہم کو" مذہبی" گروہ قراردیا۔ اور نہ آج سمجھا ہے جبکہ ہمارا نام "سیاسی جماعت" رکھا۔ سیاست اور مذہب میں تمہارا استاد یورپ ہے۔ اس لئے نہ تم نے اسلام کو سمجھا اور نہ ہمیں۔
کوئی کہتا ہے کہ الٰہ تو صرف معبود ہے تم نے یہ سیاسی حاکمیت اس کے لیے کہاں سے ثابت کردی؟ اوراس پرغضب یہ ہے کہ تم اس حاکمیت کو اللہ کے لئے مخصوص کرتے ہو اور انسانی حاکمیت کے منکر ہو۔ یہ تو خالص خارجیت ہے۔ کیونکہ تمہاری طرح خارجی بھی یہی کہتے تھے کہ اِنِ الحکم اِلا للہ اگر ہمارے نزدیک قرآن و حدیث کی رو سے خدا کا حق صرف عبادت و پرستش ہی نہیں بلکہ اطاعت و عبدیت بھی ہے۔ ان میں سے جس حق میں بھی خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کیاجائے گاشرک ہوگا۔ بندوں میں سے کسی کی اطاعت اگر کی جاسکتی ہے تو صرف خدا کے اذنِ شرعی کی بنا پر کی جاسکتی ہے اور وہ بھی خدا کی مقرر کردہ حدود کے اندر۔ رہا خدا سےبے نیاز ہوکر مستقل بالذات مطاع ہونا تو وہ تو رسولؐ کا حق بھی نہیں ہے کجا کہ کسی انسانی ریاست یا سیاسی و تمدنی ادارے کا حق ہو۔جس قانون، عدالت اور حکومت میں خدا کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو مسند نہ مانا جائے،جس کا بنیادی اصول یہ ہو کہ اجتماعی زندگی کے جملہ معاملات میں اصول اورفروع تجویزکرنا انسانوں کا اپنا کام ہے اور جس میں قانون ساز مجلسیں خدا ئی احکام کی طرف رجوع کرنے کی سرے سے ضرورت ہی نہ تسلیم کرتی ہوں اور عملا ان کے خلاف قوانین بناتی ہوں اس کے اطاعت کے لزوم تو درکنار جواز تک کا کوئی ثبوت قرآن وحدیث میں موجود نہیں ہے۔ اس بلا کو زیادہ سےزیادہ صرف برداشت کیاجاسکتا ہے جب کہ انسان اس کے پنجہ اقتداد میں گرفتار ہوجائے۔ مگر جو شخص ایسی حکومتوں کے حق فرمانروائی کو تسلیم کرتا ہے اور اس بات کو ایک اصول برحق کی حیثیت سے مانتا ہے کہ خدائی ہدایت کو چھوڑ کر انسان بطور خود اپنے تمدن،سیاست اورمعیشت کے اصول و قوانین وضع کرلینے کے مجاز ہیں وہ اگر خدا کو مانتا ہے تو شرک میں مبتلا ہے ورنہ زندقہ میں۔ ہمارے مسلک کو "خارجیت" سے تعبیر کرنا مذہب اہل سنت اور مذہب خوارج، دونوں سے ناواقفیت کا ثبوت ہے۔ علماء اہل سنت کی لکھی ہوئی کتب اصول میں سے جس کو چاہے اٹھا کردیکھ لیجئے۔اس میں یہی لکھا ملے گا کہ حکم دینے کا حق اللہ کے لئے خاص ہے مثال کے طور پر علامہ آمدی اپنی کتاب الحکام فی اصول الاحکام میں لکھتے ہیں کہ "اعلم انہ لا حاکم سوی اللہ ولا حکم الا ماحکم بہ"جان لو کہ حاکم اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے اور حکم صرف وہ ہے جو اللہ نے دیا ہے"۔
کچھ اور لوگ ہیں جو چند راچندرا کر پوچھتے ہیں کہ حکومت الٰہیہ یا اسلامی حکومت کا قیام کس نبی کی دعوت کا مقصود رہا ہے؟مگر ہم پوچھتے ہیں کہ یہ قرآن اور توراۃ میں عقائد و عبادات کے ساتھ دیوانی اور فوجداری قوانین اور صلح و جنگ کے احکام ، اور معیشت و معاشرت کےقواعد و ضوابط ، اور سیاسی تنظیم کے اصول بیان ہوئے ہیں۔ کیا یہ سب محض تفنن طبع کے لیے ہیں؟ کیایہ آپ کے اختیار تمیزی پر چھوڑا گیا ہے کہ کتاب اللہ کی تعلیمات میں سے جس چیز کو چاہیں جزو دین مانیں اور جسے چاہیں غیرضروری زوائد میں شمار کریں؟کیا انبیاء بنی اسرائیل علیھم السلام اور خاتم النبیینﷺ نے جو سیاسی نظام قائم کیے وہ ان کی پیغمبرانہ دعوت کے مقاصد میں سے نہ تھے؟محض ملاقات سے فائدہ اٹھاکر انہوں نے اپنا شوق فرمانروائی پورا کیاتھا۔ کیا دنیا میں کوئی قانون اس لئے بھی بنایا جاتا ہے کہ صرف اس کی تلاوت کرلی جائے، اس کا نفاذ سرے سے مقصود ہی نہ ہو؟کیا واقعی ایمان اسی چیز کا نام ہے کہ ہم روز اپنی نمازوں میں کتاب اللہ کی وہ آیات پڑھیں جن میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کے متعلق اصول اور احکام بیان ہوئے ہیں اور رات دن ہماری زندگی کے اکثر وبیشتر معاملات ان کے خلاف چلتے رہیں۔
ہمارا مسلک
خدا کی بندگی جس پر ہم پورے نظام زندگی کوقائم کرناچاہتے ہیں، اس کے بارے میں بھی ہمارا ایک واضح مسلک ہے اور وہ مختلف گروہوں کو مختلف وجوہ سے پسند نہیں آتا۔ ہمارے نزدیک ہر شخص اس کا مختار نہیں ہے کہ اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق جس طرح چاہے خدا کی بندگی کرے بلکہ اس کی ایک ہی صحیح صورت ہے اور وہ اس شریعت کی پابندی ہے جو محمدﷺ لے کر آئے ہیں۔ اس شریعت کے معاملے کسی مسلمان کے اس حق کو ہم تسلیم نہیں کرتے کہ اس کی جن باتوں کو چاہے قبول کرے اور جن باتوں کو چاہے رد کردے۔ بلکہ ہم اسلام کے معنی ہی اطاعت حکمِ خداوندی اور اتباع شریعتِ محمدیﷺ کے سمجھتے ہیں۔ شریعت کے علم کا ذریعہ ہمارے نزدیک صرف قرآن پاک نہیں ہے بلکہ حدیث رسولﷺ بھی ہے اور قرآن وحدیث سے استدلال کا صحیح طریقہ ہمارے نزدیک یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے نظریات پر خدا اوررسول کی ہدایات کو ڈھالے ،بلکہ یہ ہے کہ آدمی اپنے نظریات کو خدااور رسول کی ہدایت پر ڈھالے پھر ہم نہ تو تقلید جامد کے قائل ہیں جس میں اجتہاد کی جگہ نہ ہو اور نہ ایسے اجتہاد کے قائل ہیں کہ ہر بعد کی نسل اپنے سے پہلے کی نسلوں کے سارے کام پر پانی پھیر دے اور بالکل نئے سرے سے ساری عمارت اٹھانے کی کوشش کرے۔
اس مسلک کا ہر جزو ایسا ہے جس سے ہماری قوم کا کوئی نہ کوئی گروہ ہم سے ناراض ہے۔کوئی سرے سے خدا کی بندگی کا قائل ہی نہیں ہے۔ کوئی شریعت سے بے نیاز ہوکر اپنی صواب دید کے مطابق خدا کی بندگی کرناچاہتا ہے۔ کوئی شریعت میں اپنا اختیار چاہتا ہے اور اس کا مطالبہ یہ ہے کہ جو کچھ اسے پسند ہے ہواس شریعت میں رہے اور جو اسے پسند نہیں ہے وہ شریعت سے خارج ہوجائے۔کوئی قرآن وحدیث سے قطع نظر اپنے من گھڑت اصولوں کا نام اسلام رکھے ہوئے ہے کوئی حدیث کو چھوڑ کر صرف قرآن کو مانتا ہے۔ کوئی اصول اور نظریات کہیں باہر سے لے آیا ہے یا اپنے دل سے گھڑ لایا ہے اور پھر زبردستی قرآن و حدیث کے ارشادات کو ان پر ڈھالنے کی کوشش کررہاہے۔ کسی کو تقلید جامد پر اصرار ہے اور کوئی تمام پچھلے آئمہ کے کارناموں کو دریا برد کرکے نیا اجتہاد کرنا چاہتا ہے۔
اختلاف مسلک کا حق
ہماراراستہ ان سب گروہوں سے الگ ہے اور ہم مجبور ہیں کہ ان سے اختلاف بھی کریں اور ان کے علی الرغم اپنے مسلک کی تبلیغ بھی کریں اسی طرح دوسرے کے بھی اس حق کو ہم تسلیم کرتے ہیں کہ وہ جس معاملے میں بھی ہم کوغلطی پر سمجھتے ہیں اس میں ہم سے اختلاف کریں اور ہمارے علی الرغم اپنے مسلک کی تبلیغ کریں۔ اب ہرشخص جو ہندوستان و پاکستان میں رہتا ہے اور مختلف گروہوں کے لٹریچر پر نظررکھتا ہے خود ہی یہ دیکھ سکتا ہے کہ اپنی تنقید و تبلیغ میں ہمارا رویہ کیا رہا ہے اور ہمارے مخالفین نے جواب میں کس تہذیب و دیانت اور معقولیت کا ثبوت دیاہے۔
(جماعت اسلامی کا مقصد، تاریخ اور لائحہ عمل:20)