دستورجماعت اسلامی پاکستان

  • Bookmark and Share

 

دفعہ8....فرائض رکنیت:
داخلہ جماعت کے بعد جو تغیرات ہر رکن کو بتدریج اپنی زندگی میں کرنے ہوں گے وہ یہ ہیں:
۱۔ دین کا کم از کم اتنا علم حاصل کرلینا کہ اسلام اور جاہلیت(غیر اسلام) کا فرق معلو م ہو اور حدود اللہ سے واقفیت ہوجائے۔
2۔ تمام معاملات میں اپنے نقطہِ نظر، خیال اور عمل کو کتاب وسنت کی تعلیمات کے مطابق ڈھالنا، اپنی زندگی کے مقصد، اپنی پسند اور قدر کے معیار اور اپنی وفاداریوں کے محور کو تبدیل کرکے رضائے الٰہی کے موافق بنانا اور اپنی خود سری اور نفس پرستی کے بت کو توڑ کر تابع امرِ رب بن جانا۔
3۔ ان تمام رسومِ جاہلیت سے اپنی زندگی کو پاک کرنا جو کتاب اللہ اور سنتِ رسول اللہ کے خلا ف ہوں اور اپنے ظاہر وباطن کواحکامِ شریعت کے مطابق بنانے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنا۔
4۔ ان تعصبات اور دلچسپیوں سے اپنے قلب کو، اور ان مشاغل اور جھگڑوں اور بحثوں سے اپنی زندگی کو پاک کرنا جن کی بنانفسانیت یا دنیا پرستی پرہو اور جن کی کوئی اور اہمیت دین میں نہ ہو۔
5۔ فساق و فجار اور خدا سے غافل لوگوں سے موالات اور مودت کے تعلقات منقطع کرنا اور صالحین سے ربط قائم کرنا۔
5۔ اپنے معاملات کو راستی، عدل، خداترسی اور بے لاگ حق پرستی پر قائم کرنا۔
اپنی دوڑ دھوپ اورسعی و جہدکو اقامت دین کے نصب العین پر مرتکز کردینا اور اپنی زندگی کی حقیقی ضرورتوں کے سوا ان تمام مصروفیتوں سے دست کش ہوجانا جو اس نصب العین کی طرف نہ لے جاتی ہوں۔
تشریح: ضروری نہیں کہ یہ تغیرات تمام اشخاص میں کمال درجے پر ہوں، مگر ہر شخص کو اس باب میں اپنی تکمیل کی کوشش کرنی ہوگی کیونکہ انہی تغیرات کے اعتبار سے ناقص یا کامل ہونے پر ”جماعت اسلامی “ میں ہر آدمی کے مرتبے کا تعین ہوگا۔
دفعہ9....ہررکنِ جماعت کے لیے لازم ہوگا کہ اپنے حلقہِ تعارف میں اور جہاں تک وہ پہنچ سکے بندگانِ خدا کے سامنے بالعموم جماعت کے عقیدے اور نصب العین(جس کی تشریح دفعہ۳،۴ میں کی گئی ہے) کو پیش کرے ، جو لوگ اس عقیدے اور نصب العین کو قبول کرلیں انہیں اقامتِ دین کے لیے منظم جدوجہد کرنے پر آمادہ کرے اور جو لوگ جدوجہد کرنے کے لیے تیار ہوں، انہیں جماعت اسلامی کے نظام میں شامل ہونے کی دعوت دے۔
تشریح: اگر کوئی شخص جماعت اسلامی کے نصب العین، طریقِ کار، پروگرام اور نظام جماعت سے اتفاق کا اظہار کرنے کے باوجود کسی وجہ سے رکنیت کی ذمہ داریاں اٹھانے کے لیے تیار نہ ہو تو اس کو جماعت کے حلقہ متفقین میں شامل ہونے کی ترغیب دی جائے تاکہ جس حد تک بھی اس کے لیے ممکن ہو وہ اقامتِ دین کی سعی میں جماعت کے ساتھ تعاون کرے۔
دفعہ10....رکن خواتین کے فرائض:
جوعورتیں جماعت اسلامی میں داخل ہوں، ان پر اپنے دائرہ عمل میں دفعہ 9,8 کے تمام اجزاءکا اطلاق ہوگا، نیز رکن جماعت ہونے کی حیثیت سے ایک عورت کے فرائض حسب ذیل ہوں گے۔
ٍ1۔ اپنے خاندان اور اپنے حلقہ تعارف میں جماعت کے عقیدہ و نصب العین کی دعوت پہنچائے۔
2۔ اپنے شوہر، والدین، بھائی، بہنوں اور خاندان کے دوسرے افراد کو بھی اس کی تبلیغ کرے۔
3۔ اپنے بچوں کے دلوں میں نورِ ایمان پیدا کرنے کی کوشش کرے۔
اگر اس کا شوہر یا بیٹے یا باپ اور بھائی جماعت میں داخل ہوں تو اپنی صابرانہ رفاقت سے ان کی ہمت افزائی کرے اور جماعت کے نصب العین کی خدمت میں حتی الامکان ان کا ہاتھ بٹائے اور نزولِ مصائب کی صورت میں صبرو ثبات سے کام لے۔
5۔ اگر اس کا شوہر یا اس کے سرپرست جاہلیت میں مبتلا ہوں، حرام کماتے ہوں یا معاصی کا ارتکاب کرتے ہوں تو صبر کے ساتھ ان کی اصلاح کے لیے ساعی رہے، ان کی حرام کمائی اور ان کی ضلالتوں سے محفوظ رہنے کی کوشش کرے اور ان کے ایسے احکام ماننے سے انکار کردے جو معصیت خدا اور رسول کے مترادف ہوں۔
 
 حصہ دومِ
نظامِ جماعت کی نوعیت اور اس کے چلانے والوں کے اوصاف
 دفعہ11....نظامِ جماعت کی نوعیت:
جماعت اسلامی پاکستان کا نظام شورائی ہوگا اور تنظیمی لحاظ سے مرکزی اور مختلف علاقائی نظاموں پر مشتمل ہوگا۔
تشریح: نظام کے شورائی ہونے کا مطلب یہ ہے اس جماعت میں امیر اور اہلِ شوریٰ کا عزل و نصب ارکانِ جماعت کی رائے سے ہوگا اور جماعت کے سا رے کام اسلامی احکام کے مطابق مشورے سے چلائے جائیں گے۔
دفعہ12....جماعت میں فرقِ مرا  تب کا معیار:
اس جماعت میں آدمی کے درجہ و مرتبہ کا تعین اس کے حسب و نسب اور علمی اسناد اور مادی حالات کے لحاظ سے نہ ہوگا بلکہ اس تعلق کے لحاظ سے ہوگا جو وہ اللہ اور اس کے رسول اور اس کے دین کے ساتھ رکھتا ہو اور جماعت کو اس کے اس تعلق کا ثبوت اس کی ان نفسی ، جسمانی اور مادی قربانیوں سے ملے گا جو وہ اللہ کے دین کی راہ میں کرے گا۔
تشریح: اس دفعہ کا مقصود ارکانِ جماعت کے سامنے وہ اصولی معیار پیش کرنا ہے جس کے لحاظ سے وہ اپنی جماعت کے کارکنوں کو جانچیں اور پرکھیں اور یہ رائے قائم کریں کہ اس جماعت کے نظام میں کس قسم کے لوگوں کو آگے اور کس قسم کے لوگوں کو پیچھے رہنا چاہیے۔ جہاں تک رکنیت کے حقوق کا تعلق ہے، اس میں تمام ارکانِ جماعت مساوی ہیں، لیکن جہاں تک اخلاقی فضل و شرف کا اور نظامِ جماعت میں رہنمائی وپیش روی اور ذمہ دارانہ مناصب کے استحقاق کا تعلق ہے، اس کا فیصلہ کسی کی خاندانی وجاہت، یا شہرت و ناموری، یادولت و ثرت، یاعلمی اسناد کی بنا پر نہ ہوگا بلکہ اس بنیا دپر ہوگا کہ کون اللہ اور رسول کے احکام کا زیادہ پابند ہے، دین کے فہم اور اس کے مطابق عمل میں زیادہ بڑھا ہوا ہے، تحریکِ اسلامی کے کام کو چلانے کی زیادہ اہلیت