دستورجماعت
-2 جماعت سے اخراج:
دفعہ۱....90۔ کسی رکنِ جماعت کا جماعت سے اخراج صرف اس صورت میں ہو سکے گا جب کہ :
)الف) وہ اپنے عہدِ رکنیت سے قولاً یا عملاً انحراف کرے، یا
)ب) نظمِ جماعت کی خلاف ورزی کرے ، یا
)ج) جماعت کی اعلان کردہ پالیسی کے خلاف کوئی کام کرے، یا
)د) کوئی ایسا فعل کرے جو جماعت کی اخلاقی و دینی حیثیت کونقصان پہنچانے والا ہو،یا
)ہ) اس کے طرزِ عمل سے یہ ظاہر ہو کہ اسے جماعت سے مخلصانہ تعلق نہیں ہے ، یا
)و) جماعت کے کام میں دلچسپی لینا چھوڑ دے۔
2۔ اگر کوئی امیر ضلع از خود یا کسی ماتحت امیر کی رپورٹ پر یہ محسوس کرے کہ اس کے ضلع کا کوئی رکنِ جماعت اس دفعہ کی شق نمبر1 مندرجہ بالا کی کسی ضمن کا اس حد تک مرتکب ہوا ہے کہ اسے جماعت کی رکنیت سے خارج کردینا چاہیے تو وہ اس کی رپورٹ امرائے بالا کے توسط سے امیر جماعت کے پاس بھیج دے گا۔
3۔ اخراج کا آخری فیصلہ امیر جماعت کی صوابدید پر ہوگا البتہ امیر ضلع، امیرِ حلقہ یا امیر صوبہ اگر ضرورت محسوس کرے تو امیرِ جماعت کے فیصلہ تک رکنیت معطل کرسکتا ہے۔
3۔ جماعتوں کو توڑنا اور معطل کرنا
دفعہ91.... اگر جماعتی ضروریات اور مصالح مقتضی ہوں تو امیر جماعت کسی ماتحت جماعت کو معطل کرنے اور اپنی مجلس عاملہ کے مشورے سے توڑ دینے کا مجاز ہوگا۔
دفعہ92.... مجلسِ شوریٰ کے ہر اجلاس میں وہ سارے معاملات پیش کردیے جائیں گے جو پچھلے اجلاس سے اس وقت تک ماتحت جماعتوں کو معطل کرنے، توڑنے یا ارکان کے اخرج سے متعلق ہوئے ہوں۔
4۔ جماعت اسلامی پاکستان میں اختلاف کے حدود
دفعہ93.... جو ارکانِ جماعت دستور ِ جماعت کی پابندی کے عہد پر قائم ہوں، مگر نصب العین کے حصول کے عملی طریقوں میں جن کا نقطہِ نظر جماعتی فیصلوں سے مختلف ہو، انہیں جماعت کے اندر حسبِ ذیل حدود کو ملحوظ رکھنا ہوگا۔
1۔ انہیں ارکانِ جماعت کے اجتماعات میں اختلافِ خیال کے اظہار کا پورا حق حاصل ہوگا، مگر اس غرض کے لیے پریس اور پبلک پلیٹ فارم کو ذریعہ بنانے کا حق نہ ہوگا اور یہ حق بھی نہ ہو گا کہ وہ فرداً فرداً ارکانِ جماعت میں نجویٰ کرتے پھریں۔
2۔ جماعت میں کثرتِ رائے سے جو فیصلے ہوجائیں، ان کو وہ جماعتی فیصلوں کی حیثیت سے تسلیم کریں گے اور ان کے پابند ہوں گے۔ البتہ انہیں یہ حق حاصل ہو گا کہ مقررہ حدود کے اندر وہ ان فیصلوں کو متعلقہ اجتماعات میں بدلوانے کی کوشش کریں۔
3۔ اگر کوئی رکنِ جماعت، جماعت کی طے کردہ پالیسی سے اختلا ف کا اظہار کردے تو وہ جماعت میں کسی ایسے منصب پر نہ رہ سکے گا جس کا فریضہ جماعتی پالیسی کو نافذ یا اس کی ترجمانی کرنا ہو۔
)حصہ دہم(
مالی نظام
1۔ بیت المال کا قیام:
دفعہ۱....94۔ ہر مقامی جماعت کے لیے مقامی بیت المال، علاقہ میں علاقائی بیت المال ، ضلع میں ضلعی بیت المال ، حلقہ میں حلقہ کا بیت المال، صوبے میں صوبائی بیت المال اور مرکز جماعت میں مرکزی بیت المال قائم کیاجائے گا۔ اِلا یہ کہ بالائی شوریٰ کسی نظام کے لیے الگ بیت المال کے قیام کو غیر ضروری قرار دے یا کسی جگہ الگ الگ بیت المال قائم کرنے کی بجائے ایک ہی بیت المال کافی سمجھے۔
2۔ بیت المالوں کی نظم ونسق کے متعلق جملہ اختیارات امیرِ جماعت کو حاصل ہوں گے۔
3۔ بیت المال میں آمدنی کے ذرائع:
دفعہ95.... جماعت کے بیت المالوں کی آمدنی حسب ذیل ذرائع سے حاصل کی جائے گی۔
1۔ جماعت کے ارکان اور اس کے کام سے دلچسپی رکھنے و الے دوسرے حضرات سے بمد:
)الف) اعانت
)ب)عشر و زکوٰة
)ج) عام صدقات
2۔ ماتحت بیت المالوں سے
3۔ جماعت کی مطبوعات سے منافع
4۔ جماعت کے مکتبوں سے منافع
5۔ لقطہ (جو جماعت کے دفاتر اور مقاماتِ اجتماع میںملے اور شرعی قواعد کی رو سے داخلِ بیت المال ہوسکتا ہو۔(
6۔ جماعتی املاک کی آمدنی
7۔ ایسی جائیدادوں کی آمدنی جو جماعت کے لیے وقف کی گئی ہوں۔
تشریح: ارکانِ جماعت اپنی زکوٰة، عشر اور صدقات واجبہ لازماً جماعت کے بیت المال میںداخل کریں گے۔
3۔ بیت المال سے صرَف کے اختیارات:
دفعہ۱.... 96۔ ہر جماعت کا بیت المال اس کے امیر کے تحت ہوگا اور امیر کو اپنے بیت المال سے ہر جماعتی کا م پر خرچ کرنے کے اختیارات ہوں گے، لیکن ہر امیر اپنے امرائے بالا کے سامنے جوابدہ ہوگا۔
2۔ امیر جماعت بیت المال کی آمد و صرف کے معاملے میں مرکزی مجلسِ شوریٰ کے سامنے جواب دہ ہوگا۔
3۔ مرکزی بیت المال کے حساب کی پڑتال ہر سال کسی آڈیٹر سے کرائی جائے گی جس کا تقرر مجلسِ شوریٰ کرے گی اور آڈیٹر کی رپورٹ مجلس شوریٰ کے سامنے پیش کی جائے گی۔
٭٭٭
)حصہ یازدہم(
تنقید و محاسبہ، قواعد سازی، ترمیم دستور، توضیح اصطلاحات
1۔ تنقید و محاسبہ کی آزادی:
دفعہ۱....97۔ ہر رکن جماعت کو ارکان کے اجتماع عام میں مرکزی نظام پر، صوبے کے اجتماع میں صوبائی نظام پر، حلقہ کے اجتماع میں حلقہ کے نظام پر، ضلع کے اجتماع میںضلعی اور مقامی اجتماع میں مقامی نظام پر تنقید اور محاسبہ کا حق ہوگا، بشرطیکہ وہ حدودِ شرعیہ اور حدودِ اخلاق سے تجاوز نہ کرے اور کوئی ایسا طریقہ اختیار نہ کرے جو جماعت کے لیے نقصان دہ ہو۔
2۔ ہر رکنِ جماعت کو حق حاصل ہوگا کہ اگر اسے امیر جماعت یا مجلسِ شوریٰ کے فیصلوں پرکوئی اعتراض ہو یا وہ ان کے بارے میں کوئی سوال کرنا چاہے تو :
)الف) اسے مجلسِ شوریٰ کے کسی رکن کے ذریعے سے مرکزی مجلسِ شوریٰ میں پیش کرائے یا
)ب) ارکان کے اجتماعِ عام میں خود اسے پیش کرے بشرطیکہ اجتماعِ ارکان کا اعلان ہونے کے بعد دس دن کے اندر وہ اپنا سوال یا اعتراض قیم جماعت کے پاس بھیج دے۔
3۔ ارکان کے اجتماعاتِ عام میں تنقید و محاسبہ کرنے اوراعتراضات اور سوالات پیش کرنے کے لیے ضابطہ کارروائی مرتب کرنے کا اختیار مرکزی مجلس شوریٰ کو ہوگا۔
2۔ قواعد سازی کے اختیارات:
دفعہ98.... اس دستور کے منشا کوپورا کرنے کے لیے جن قواعد کی ضرورت پیش آئے وہ امیر جماعت مجلسِ عاملہ کے مشورے سے مرتب کرسکے گا۔
3۔ دستور میں ترمیم کا طریقہ:
دفعہ99....۱۔ ترمیمِ دستور کے لیے صرف وہی تجویز مجلسِ شوریٰ کے اجلاس میں زیر غور آسکے گی جو مرکزی مجلسِ شوریٰ کے ایجنڈے میں شامل ہوگی اور اس کے لیے پندرہ دن کا نوٹس ضروری ہوگا۔ ترمیم دستور کے لیے ایجنڈے کی شق پر مرکزی مجلسِ شوریٰ اتفاق رائے سے فیصلہ کرنے کی کوشش کرے گی لیکن اختلاف کی صورت میں مجلسِ شوریٰ کے ارکان کی اکثریت کا فیصلہ مجلسِ شوریٰ کا فیصلہ متصور ہوگا۔
2۔ اگر کوئی رکنِ جماعت دستور میں ترمیم کرنے کی تجویز پیش کرنا چاہے تو اسے متعین اور واضح صورت میں قلمبند کرکے اجلاس شروع ہونے سے کم از کم بیس دن پہلے قیم جماعت کے پاس بھیج دے گا۔ امیرِ جماعت خود یا مجلسِ عاملہ یا اس کی مقرر کردہ کمیٹی اگر اسے منظور کرے تو اسے ایجنڈے میں شامل کرلیا جائے گا۔ البتہ مجلسِ شوریٰ کے ارکان کی بھیجی ہوئی ترمیم دستور کی واضح اور اور متعین تجاویز لازماً ایجنڈے میںشامل کی جائیں گی بشرطیکہ اجلاس شروع ہونے سے کم از کم تیس دن پہلے قیم جماعت کے پاس پہنچ جائیں۔
4۔ توضیح اِصطلاحات:
دفعہ100.... اس دستور میں جو اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں ان کا صحیح مفہوم وہ ہوگا جو ذیل میںدرج کیاجاتا ہے، الا یہ کہ کسی سیاقِ عبارت میں کوئی اصطلاح صراحۃً دوسرے مفہوم پر دلالت کرے۔
۱۔ ”جماعت“ اور” جماعت اسلامی“کے معنی ”جماعت اسلامی پاکستان“کے ہوں گے۔
3۔”مستقل امیر “ سے مراد دفعہ۷۱ کے مطابق ارکانِ جماعت کا منتخب کردہ امیر ہوگا۔
4۔ ”عارضی امیر“ سے مراد دفعہ 17(6) کے تحت مرکزی مجلس شوریٰ کے ارکان کا منتخب کردہ امیر ہوگا۔
5۔ ”قائم مقام امیر“ سے مراد دفعہ17(7) کے تحت امیر جماعت کا مقرر کردہ امیر ہوگا۔
6۔”شوریٰ“ ”مجلسِ شوریٰ“ اور ”مرکزی مجلسِ شوریٰ“ سے مراد جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ ہوگی۔
7۔ ”مجلس عاملہ“ اور مرکزی مجلسِ عاملہ“ سے مراد جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلسِ عاملہ ہوگی۔
8۔ ”ماتحت امراء “ سے مراد جماعت اسلامی پاکستان کے تنظیمی صوبوں، حلقوں، ضلعوں علاقوں اور مقامی جماعتوں کے امراء ہوں گے۔
9۔ ”ارکان جماعت“سے مراد اگر معاملہ مرکزی نظامِ جماعت سے متعلق ہوتو کل پاکستان کے ارکان اور کسی علاقے یا مقام کے نظام سے متعلق ہوتو اسی علاقے یا مقام کے ارکان ہوں گے۔