دستورجماعت اسلامی پاکستان
دفعہ4....نصب العین
جماعت اسلامی پاکستان کا نصب العین اور اس کی تمام سعی وجہد کا مقصود عملاً اقامتِ دین(حکومتِ الٰہیہ یا اسلامی نظام زندگی کا قیام) اورحقیقتاً رضائے الٰہی اور فلاحِ اخروی کا حصول ہوگا۔
تشریح: ”الدین“، حکومت الٰہیہ اور اسلامی نظامِ زندگی۔ تینوں اس جماعت کی اصطلاح میں ہم معنی الفاظ ہیں۔ قرآن مجید نے اپنے جس مفہوم کو بیان کرنے کے لیے ”اقامت دین“ کے الفاظ استعمال کیے ہیں اسی مفہوم کو یہ جماعت اپنی زبان میں ”حکومتِ الٰہیہ“یا اسلامی نظام زندگی کے قیام سے ادا کرتی ہے۔ ان تینوں کا مطلب اس کے نزدیک ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ انسانی زندگی کے جس دائرے میں انسان کو اختیار حاصل ہے اس میں وہ برضا و رغبت اسی طرح اللہ کی تشریعی حکومت تسلیم کرے جس طرح دائرہ جبر میں کائنات کا ذرہ ذرہ چارو ناچار اس کی تکوینی حکومت تسلیم کررہا ہے۔ اللہ کی اس تشریعی حکومت کے آگے سرجھکانے سے جو طریقِ زندگی رونما ہوتا ہے وہی”الدین“ ہے، وہی ”حکومت الٰہیہ“ ہے اور وہی ”اسلامی نظام زندگی ہے۔
اقامتِ دین سے مقصود دین کے کسی خاص حصے کی اقامت نہیں بلکہ پورے دین کی اقامت ہے خواہ اس کا تعلق انفرادی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے، نماز، روزہ اور حج زکوٰة سے ہو یا معیشت و معاشرت اور تمدن و سیاست سے ۔ اسلام کا کوئی حصہ بھی غیر ضروری نہیں ہے۔
پورے کا پورا اسلام ضروری ہے۔ ایک مومن کا کام یہ ہے کہ اس پورے اسلام کو کسی تجزیہ و تقسیم کے بغیر قائم کرنے کی جدوجہد کرے۔ اس کے جس حصے کا تعلق افراد کی اپنی ذات سے ہے، ہر مومن کو اسے بطور خود اپنی زندگی میں قائم کرنا چاہیے اور جس حصے کا قیام اجتماعی جدوجہد کے بغیر نہیں ہوسکتا، اہل ایمان کو مل کر اس کے لیے جماعتی نظم اور سعی کا اہتمام کرنا چاہیے۔
اگرچہ مومن کااصل مقصد رضائے الٰہی کا حصول اور آخرت کی فلاح ہے، مگر اس مقصد کا حصول اس کے بغیر ممکن نہیں ہے کہ دنیا میں خدا کے دین کو قائم کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس لیے مومن کا عملی نصب العین اقامت دین اور حقیقی نصب العین وہ رضائے الٰہی ہے جو اقامتِ دین کی سعی کے نتیجے میںحاصل ہوگی۔
دفعہ:5....طریقِ کار
جماعت کا مستقل طریقِ کار یہ ہوگاکہ:
1۔ وہ کسی امر کا فیصلہ کرنے یا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یہ دیکھے گی کہ خدا اور رسول کی ہدایت کیا ہے۔ دوسری ساری باتوں کو ثانوی حیثیت سے صرف اس حد تک پیشِ نظر رکھے گی جہاں تک اسلام میں اس کی گنجائش ہوگی۔
2۔ اپنے مقصد اور نصب العین کے حصول کے لیے جماعت کبھی ایسے ذرائع اور طریقوں کو استعمال نہیں کرے گی جو صداقت اور دیانت کے خلاف ہوں یا جن سے فساد فی الارض رونما ہو۔
3۔ جماعت اپنے پیشِ نظر اصلاح اور انقلاب کے لیے جمہوری اور آئینی طریقوں سے کام کرے گی۔ یعنی یہ کہ تبلیغ و تلقین اور اشاعت افکار کے ذریعہ سے ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح کی جائے اور رائے عامہ کو ان تغیرات کے لیے ہموار کیاجائے جو جماعت کے پیش نظر ہیں۔
4۔ جماعت اپنے نصب العین کے حصول کی جدوجہد خفیہ تحریکوں کے طرز پر نہیں کرے گی بلکہ کھلم کھلا اور علانیہ کرے گی۔
دفعہ:6....شرائطِ رکنیت:
ہرعاقل و بالغ شخص (خواہ وہ عورت ہو یا مرد اور خواہ وہ کسی ذات، برادری یانسل سے تعلق رکھتا ہو)اس جماعت کا رکن بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ:
۱۔ جماعت کے عقیدے کو اس کی تشریح کے ساتھ سمجھ لینے کے بعد شہادت دے کہ یہی اس کا عقیدہ ہے۔
2۔ جماعت کے نصب العین کو اس کی تشریح کے ساتھ سمجھ لینے کے بعد اقرا ر کرے کہ یہی اس کا نصب العین ہے۔
3۔ اس دستور کا مطالعہ کرنے کے بعد عہد کرے کہ وہ اس کے مطابق جماعت کے نظم کی پابندی کرے گا۔
4۔ فرائضِ شرعی کا پابند ہو اور کبائر سے اجتناب کرتا ہو۔
5۔ کوئی ایسا ذریعہِ معاش نہ رکھتا ہو جو معصیت ِ فاحشہ کی تعریف میں آتا ہو مثلاً سود،شراب،زنا، رقص و سرود، شہادتِ زور، رشوت، خیانت، قمار وغیرہ
6۔ اگر اس کے قبضے میں ایسا مال (یاجائیداد)ہو جو حرام طریقے سے آیا ہو، یا جس میں حق داروں کے تلف کردہ حقوق شامل ہوں، تو اس سے دست بردار ہوجائے اور اہل حقوق کو ان کے حق پہنچا دے۔
تشریح: یہ عمل صرف اس صورت میں کرنا ہوگا جب کہ حق دار بھی معلوم ہوں اور وہ مال بھی معلوم و متعین ہو جس میں ان کا حق تلف ہوا ہے۔ بصورتِ دیگر توبہ اور آئندہ کے لیے طرزِ عمل کی اصلاح کافی ہوگی۔
7۔ کسی ایسی جماعت یا ادارے سے تعلق نہ رکھتا ہو جس کے اصول اور مقاصد جماعت اسلامی کے عقیدہ، نصب العین اور طریقِ کار کے خلا ف ہوں۔
نظمِ جماعت اس کے بارے میں مطمئن ہوجائے کہ وہ جماعت کی رکنیت کا اہل ہے۔
دفعہ7....طریق داخلہ:
مذکورہ بالا شرائط کے مطابق جماعت میں داخلہ کا طریقہ یہ ہوگا کہ امیدوار رکنیت، امیر جماعت یا اس کے مقرر کیے ہوئے کسی مجاز شخص کے سامنے اس بات کا اقرار کرے کہ:
اولاً، اس نے جماعت کے عقیدے کو اس کی تشریح کے ساتھ اچھی طرح سمجھ لیاہے اور سجھنے کے بعد اب پورے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ شہادت دیتا ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔
ثانیاً، اس نے جماعت کے نصب العین کو اس کی تشریح کے ساتھ اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور وہ اسے سمجھنے کے بعد اقرار کرتا ہے کہ دنیا میں اللہ کے دین کو قائم کرنا ، اس کی زندگی کا نصب العین ہے اور اسی نصب العین کے حصول کی سعی کے لیے وہ خالصتا للہ جماعت اسلامی میں داخل ہورہا ہے۔اور اس کام میں اس کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ کی رضا اور فلاحِ اخروی کے سوا اور کوئی مقصد نہیں ہے۔
ثالثاً، اس نے دستورِ جماعت کو بھی اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور وہ عہد کرتا ہے کہ اس دستور کے مطابق وہ نظامِ جماعت کا پوری طرح پابند رہے گا۔