بانی جماعت اسلامی سیدابوالاعلی مودودی
سب کی مراد اسلامی دستور
جماعت اسلامی اور سید مودودی کی طویل جدوجہد بالآخر رنگ لائی ۔ سید مودودی کی کوشش اور عوام کے مطالبے پر ملک کی دستور ساز اسمبلی نے سید مودودی کے دیے ہوئے نشانات کی بنیاد پر ایک اسلامی دستور ترتیب دیا ۔
جماعت اسلامی جو سید مودودی کی راہنمائی میں اسلامی دستور کا مطالبہ مدت سےکر رہی تھی ، اس کی کوشش کامیاب ہوگئی۔ چودھری محمد علی وزارت عظمی کے دور میں پاکستان کا اسلامی دستور 23مارچ1956ء کو ملک میں نافذ ہوگیا۔ یہ دستور کچھ نقائص کے باوجود بڑی حد تک اسلامی دستور ہی تھا، اور تمام تر جماعت اسلامی اورسید مودودی کی کوششوں کو نتیجہ تھا۔ اگر سید مودودی اور جماعت اسلامی قیام پاکستان کے فوراً بعد اسلامی دستور کی کوشش شروع نہ کرتے اوراسلامی نظام کے لیے قربانیاں بھی پیش نہ کرتے، جیل نہ جاتے، عوام میں بیداری پیدا نہ کرتے تو کون کہہ سکتا ہے کہ 1956ء میں پاکستان کا دستور ایسا اسلامی بن جاتا، جس وقت اسمبلی یہ دستور بنا رہی تھی تو جماعت اسلامی نے ملک میں اسلامی دستور کی زبردست مہم چلا رکھی تھی. اسی وجہ سے عام لوگوں نے بھی حکومت پر دباؤ ڈالا کہ وہ دستور کو اسلامی بنائے۔ یہ دستور جب نافذ ہوا تو پورے ملک میں چراغاں کیاگیا۔ عوام نے خوشیاں منائیں، سارے مسلمان ملکوں کی طرف سے سید مودودی کو بھی مبارکباد کے پیغامات آئے اور پاکستان کی عزت اور وقار میں بہت اضافہ ہوگیا۔ صدیوں کے بعد ایک مسلمان ملک میں اسلامی دستور نافذ ہوا تھا۔
جبرو تشدد کی طویل اندھیری رات
نیا دستورتوبن گیا لیکن ملک کے اندر اسلام کے دشمنوں،بے دینوں اور مغربی تہذیب کے متوالوں کے سینے پر سانپ لوٹ گیا۔ سوشلسٹوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی بے دین سرکاری افسر سخت ناراض ہوگئے۔ غیر اسلامی ملکوں میں پاکستان کے خلاف سازشیں بڑھ گئیں اور کفر تڑپ کر رہ گیا۔
نئے دستو کے تحت ملک میں عام انتخابات کی تیاریاں جاری تھیں لیکن دوسری طرف ملک اور اسلام کے دشمنوں نے سازشیں شروع کردیں اور پھر 58ء کے اکتوبر میں ایک سازش کے ذریعے ملک میں فوجی راج نافذ کردیاگیا۔ فوج کے سربراہ ایوب خان نے یہ حرکت کی تھی۔ جس کے ذمے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنا تھا اسی نے ملک پر فوجی قبضہ کرلیا۔ اسمبلیاں توڑ دیں، جمہوری ادارے ختم کردیےاورا اپنی ہی قوم پر دشمن فوجوں کی طرح مارشل لاء نافذ کرکے دستور کو منسوخ کردیا۔ ساتھ ہی سب سیاسی جماعتوں پر بھی پابندی لگادی۔ یہ سب کچھ اس لیے کیا گیا تھا کہ ملک میں اسلامی نظام نہ آئے اور اس کے راستے میں رکارٹ ڈالی جائے۔ ظاہر ہے کہ اسلام کے قانون سے خوفزدہ لوگوں نے اسلامی نظام سے بچنے کے لیے ہی یہ کارروائی کی تھی، یہ مارشل لا مسلسل چوالیس ماہ تک ملک میں نافذ رہا۔ اس عرصے میں سید مودودی اپنے علمی کاموں میں مصروف رہے اور حق بات کا اظہار جرأت سے کرتے رہے ۔ صدر ایوب خاں نے بہت سے ایسے قدامات کیے جو اسلامی اور شرعینقطہ نظر سے بالکل ناجائز اور غلط تھے۔ اس نے قرآن و سنت کے خلا ف عائلی قوانین اورخاندانی منصوبہ بندی نافذ کردی، سید مودودی نے حکومت کی ان سب غیر اسلامی کارروائیوں کی سخت مذمت کی اور آگاہ کیا کہ یہ کارروائیاں ملک کی سلامتی اور مسلمانوں کے اتحاد و تعاون کے لیےسخت نقصان دہ ثابت ہوں گی۔ سید مودودی نے ایوب خاں کی تمام غیر اسلامی باتوں کی سخت مخالفت کی اور قرآن و سنت کے حوالوں سے ان اقدامات کو ناجائز اور غیر اسلامی ثابت کیا۔ اس پرایوب خاں بہت ناراض ہوا اور سید
مودودی کی کتاب"ضبط ولادت"کوضبط کرلیا۔ اس نے اپنے دور میں اور بھی بہت سی سختیاں کیں یہاں تک کہ اس نے ملک کی تقسیم اور تباہی کی بنیادیں رکھ دیں اور اس کی جڑوں کو ہلادیا۔
حکومت کی سرپرستی میں اسلام دشمن قوتیں کام کر رہی تھیں."طلوع اسلام " رسالے اور ایوب خاں کی حکومت کے دوسرے دشمنِ اسلام اداروں کے ذریعے اسلام کے خلاف بہت ناروا کاروائیاں ہوتی رہتی تھیں۔ ایوب خان ان کی خوب سرپرستی کرتا تھا۔ اسی زمانے میں انکارِ حدیث کے فتنے نے بھی حکومت کی سرپرستی میں خوب زور پکڑا۔ کچھ لوگوں نے بھی کہنا شروع کردیا کہ اسلام میں حدیث کی کوئی حیثیت نہیں ہے اورہم اسے نہیں مانتے حتٰی کہ مغربی پاکستان کی عدالت کے ایک جج صاحب نے بھی حدیث کے بارے میں شک ظاہرکردیا اور اس کو اسلام میں سند ماننے سے انکار کردیا۔ یہ بہت خطرناک بات تھی کیونکہ تیرہ صدیوں سے مسلمان اسلام میں حدیث کوسند مانتے چلے آئے تھےاور کسی نے شک کا اظہار یا انکار کبھی نہیں کیاتھا۔ اس فتنے پر اگر خاموشی اختیار کی جاتی تو اس سے دین کو بہت ضعف پہنچتا۔ سید مودودی نے اس نازک
وقت پر اسلام میں حدیث کی بنیادی حیثیت کو دلائل سےثابت کیا کہ جس طرح خدا اور اس کا رسولؐ، دونوں واجب الاطاعت ہیں اسی طرح خدا کا قرآن اور رسولؐ کی سنت بھی،دونوں اسلامی قانون کا سرچشمہ ہیں۔ انہوں نے فتنہ انکارِ حدیث پر آخری ضرب لگانے کے لیے اپنے رسالے "ترجمان القرآن"کا "منصب رسالت نمبر"بھی شائع کیا۔ یہ ایسا مدلل اور ایسی شاہ ضرب تھی کہ منکرین حدیث اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ اس طرح فتنہ انکار حدیث کا تدارک کرکے سید مودودی نے ایک زبردست کارنامہ سرانجام دیا۔ انہوں نے حدیث کا انکار کرنے والوں کو شکست دی اور اس طرح قوم ایک زبردست فتنے سے محفوظ ہوگئی۔
قیدو بند اور ظلم و تشدد کا نیا دور
جس طرح بھیڑ کے لباس میں بھیڑیا بہت خطرناک ہوتا ہے۔ وہ باڑے میں گھس کر ساری بھیڑیں کھاجاتا ہےاسی طرح جمہوریت کے لباس میں آمریت بھی بہت خطرناک ہوتی ہے۔ ایوب خاں کا دستور ایسا ہی تھا جودراصل جمہوریت کے نام پر آمریت تھی۔ سید مودودی ایک کھرے ا ورسچےآدمی کی طرح صدرایوب کے تمام غلط کاموں پر اسے ٹوکا اور اس کی غیر اسلامی باتوں اور غیر شرعی حرکتوں کی مذمت کی۔ اس پرایوب خاں ان کے سخت خلاف ہوگیا۔ وہ اپنےوزیروں اور حکومت کے دوسرے لوگوں کے ذریعے جماعت اسلامی کو بدنام کرنےلگا۔ اس نے سید مودودیؒ کی مخالفت کرنے کے لیے باقاعدہ محکمے قائم کردیے۔ مولویوں کو خرید کر استعمال کیا۔ ہمارے ریڈیو اورخبارات توپہلے ہی پوری طرح حکومت کے قبضے میں ہیں اور ان میں دن رات حکومت کی تعریف اور حکومت کےمخالف لوگوں کی مخالفت ہوتی رہتی ہے چنانچہ ریڈیو دن رات سید مودودی کے خلاف پر و مپیگنڈہ کرنے لگا۔ انہیں گالیاں دی گئیں،اور ان پر جھوٹے الزام اور بہتان لگائے گئے۔ چونکہ ریڈیو ٹیلی ویژن میں زیادہ تر بے دین سوشلسٹ عناصر بھرے ہوئے تھے اس لیے انہوں نے بہتان بازی کی حد کردی اورسید مودودی اور جماعت پر اپنا ہرحربہ استعمال کیا۔
لاؤڈ سپیکر اور گولیاں
مارشل لاء اٹھنے کے بعد اکتوبر 1963ء میں سید مودودی اور ان کی جماعت نے اپنا سالانہ جلسہ لاہور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایوب خاں کی حکومت نے اس کو روکنے کی پوری پوری کوشش کی، یہ جلسہ لاہور کے منٹو پارک میں ہونے والا تھا لیکن حکومت نے وہاں جلسہ کرنے سے منع کردیا اور کہا کہ بھاٹی دروازے کے باہر والی تنگ جگہ میں جلسہ کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔ یہ جگہ لاکھوں انسانوں کے لیے بالکل ناکافی تھی، لیکن جماعت اسلامی کے کارکنوں نے بڑی محنت کے بعد وہاں جلسے کا انتظام کرلیا۔ اب ایوب خاں کے گورنر امیر محمد خاں آف کالا باغ نے لاؤڈ سپیکر استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکا رکردیا۔ جماعت اسلامی نے اس کے بغیر ہی جلسہ کرنے کا فیصلہ کرلیا اور اپنی ساری کارروائی مکبروں کے ذریعے انجام دینے کا فیصلہ کیا۔ 25اکتوبر کو جلسہ شروع ہوا۔ سید مودودیؒ نے تقریر شروع کی تو ایوب خاں کے گورنر نے شراب میں بدمست کچھ غنڈے وہاں پہنچائے، جو چُھروں اور پستولوں سے مسلح تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ جلسے کوخراب کرنے کے لئے لوگوں کو غصہ دلائیں۔ انہوں نے شامیانوں کی رسیاں کاٹیں،گولیاں چلائیں،جس سے جماعت اسلامی کا ایک کارکن اللہ بخش شہید ہوگیا۔ یہ کارکن گوفرہ ضلع لائل پور کا رہنے والا تھا۔ ان غنڈوں کا اصل نشانہ تو سید مودودی تھے، اس وقت سید مودودی سٹیج پر کھڑے تقریر کر رہے تھے، کچھ لوگوں نے سید مودودی سے کہا کہ غنڈے آپ پر گولی چلا رہے ہیں اس لیے آپ بیٹھ جائیں مگر وہ کوئی بزدل آدمی نہیں تھے۔ وہ تو اپنی زندگی اسلام کے لیے وقت کر چکے تھے۔ وہ تو پھانسی کی کوٹھڑی میں بھی مسکراتے رہے تھے۔ انہوں نے غنڈوں سےڈر کر بیٹھنے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ غنڈہ گردی کے مقابلے میں اگر میں بھی بیٹھ گیا تو پھر اس ملک میں کون کھڑارہ جائےگا۔ غرض سید مودودی ڈٹ کر سٹیج پر کھڑے رہے۔ اس پر ماہر نے کہا:
سید مودودی تیسری مرتبہ جیل میں
اپنی اس ناکامی پر ایوب خاں اور اس کے ساتھی بہت پریشان ہوئے۔ ان کا غصہ برابر بڑھتا چلا گیا۔ جماعت اسلامی کے خلاف پرپیگنڈہ بھی بہت سخت ہوگیا۔ ایک وزیر صاحب صرف جماعت کی مخالفت کے لیے وقف تھے اور وہ روزانہ پریس کانفرنس کیا کرتے۔ آخر کار ایوب خاں نے 6جنوری 1964ء کو جماعت اسلامی کو خلافِ قانون قرار دے دیا۔ سیدمودودی اور جماعت اسلامی کے پینسٹھ لیڈروں کو بے گناہ گرفتار کر کے جیلوں میں ڈال دیاگیا۔
حکومت نے جماعت کے رہنماؤں اور سید مودودی کو جیل میں پہنچانے کےبعد ایک لمبا چوڑا الزام نامہ شائع کیااور بڑے طمطراق سے پھیلایا۔ سید مودودیؒ نے بتایا:
"ہمارے مقدمے کی پیروی سو سے زائد وکلاء کر رہے تھے، جن میں مسٹر بروہی پیش پیش تھے۔ اس پیشے سے وابستہ ارکان نے قانون کی بالاتری کو برقرار رکھنے کے لیے جس عظیم جذبے کا اظہار کیا وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ظاہر نہ ہواتھا۔
انہوں نے بتایاکہ:
"سپریم کورٹ کے ججوں کا متفقہ فیصلہ یہی تھا کہ جماعت کے خلاف حکم امتناعی خلافِ قانون ہے۔ یہ فیصلہ ہمارے قانون کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ فی الحقیقت اسے تاریخ ساز فیصلہ کہا جاسکتا ہے"
جیل کی مصروفیت کے بارے میں انہوں نے بتایا:
"ہمارے رفقاء مختلف جیلوں میں تھے،سبھی کچھ نہ کچھ کرتے رہے،جب اکٹھے تھے تو درس قرآن و حدیث کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ اس کے علاوہ ہر ایک کی مصروفیت الگ الگ رہی۔ میں نے چالیس سے چھیالیس تک سورتوں کی تفسیر بھی اسی جیل میں تحریر کی"
ایوب خاں کے زمانے میں کم از کم مجھے یہ تجربہ نہیں ہوا کہ پولیس یا جیل کے عملے نے میرے یا جماعت کے کسی فرد کے ساتھ کسی نوعیت کی بدتمیزی کی ہو"
نوماہ بعد اس قیدوبند سے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے نے رہا کردیا اور جماعت 24گھنٹے کے اندراندر پورے ملک میں پھر بحال ہوگئی۔
حکومت نے جماعت کے رہنماؤں اور سید مودودی کو جیل میں پہنچانے کےبعد ایک لمبا چوڑا الزام نامہ شائع کیااور بڑے طمطراق سے پھیلایا۔ سید مودودیؒ نے بتایا:
"ہمارے مقدمے کی پیروی سو سے زائد وکلاء کر رہے تھے، جن میں مسٹر بروہی پیش پیش تھے۔ اس پیشے سے وابستہ ارکان نے قانون کی بالاتری کو برقرار رکھنے کے لیے جس عظیم جذبے کا اظہار کیا وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے کبھی ظاہر نہ ہواتھا۔
انہوں نے بتایاکہ:
"سپریم کورٹ کے ججوں کا متفقہ فیصلہ یہی تھا کہ جماعت کے خلاف حکم امتناعی خلافِ قانون ہے۔ یہ فیصلہ ہمارے قانون کی تاریخ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ فی الحقیقت اسے تاریخ ساز فیصلہ کہا جاسکتا ہے"
جیل کی مصروفیت کے بارے میں انہوں نے بتایا:
"ہمارے رفقاء مختلف جیلوں میں تھے،سبھی کچھ نہ کچھ کرتے رہے،جب اکٹھے تھے تو درس قرآن و حدیث کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ اس کے علاوہ ہر ایک کی مصروفیت الگ الگ رہی۔ میں نے چالیس سے چھیالیس تک سورتوں کی تفسیر بھی اسی جیل میں تحریر کی"
ایوب خاں کے زمانے میں کم از کم مجھے یہ تجربہ نہیں ہوا کہ پولیس یا جیل کے عملے نے میرے یا جماعت کے کسی فرد کے ساتھ کسی نوعیت کی بدتمیزی کی ہو"
نوماہ بعد اس قیدوبند سے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے نے رہا کردیا اور جماعت 24گھنٹے کے اندراندر پورے ملک میں پھر بحال ہوگئی۔
سید مودودی معرکہ ستمبر میں
سید مودودی صرف بہادر عالم دین اور سیاسی رہنما ہی نہیں بلکہ جانباز مجاہد بھی تھے۔ انہوں نے تقسیم ملک کے وقت بھی دارالاسلام میں مسلمانوں کی حفاظت کی اور پہرے دیے۔ جب پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے مکاری سے ستمبر1965ء میں پاکستان پر حملہ کردیا تو سید مودودیؒ نے اپنے تمام اختلافات ختم کرکے اور حکومت کے اپنے اوپر مظالم کو بھلا کر ایوب خاں کی زیادتیوں کو معاف کر کے فی الفور جماعت اسلامی اور اپنی خدمات حکومت کو پیش کردیں۔
حکومت بھی سمجھتی تھی کہ سید مودودی کی بات میں بہت اثر ہے اور تمام دیندار اور سمجھ دارلوگ انہیں مانتے ہیں اس لیے حکومت نے قائداعظم کی وفات کے بعد پہلی بار سید مودودیؒ کو ریڈیو پر تقریر کرنے کی دعوت دی۔ حالانکہ اس سےپہلے اور اس کے بعد بھی یہ ریڈیو ہمیشہ سید مودودی کے خلاف الزامات اور جھوٹ ہی اچھالتا رہاتھا۔ حکومت اور اس کے وزیروں نے بھی ہمیشہ سید مودودی کو بدنام کرنے کے لیے یہی مشہور کر رکھا تھا کہ مودودی تو پاکستان کے خلاف تھے مگر اس موقع پر ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ سید مودودی اور ان کی جماعت ہر مشکل وقت میں قوم کی خدمت کرتے ہیں. وہ لوگوں کوطبی امداد دیتے، نادار طلبہ کو چندے جمع کر کے وظائف دیتےاورجنگ ہو یا سیلاب ہر حال میں قوم کے کام آتے ہیں۔ سید مودودی اور ان کی جماعت نے کشمیر کی آزادی کے لیے جہادمیں بھی پوری طرح حصہ لیااور بھارت کے خلاف جہاد میں بھی۔ سید مودودی نے ریڈیوں پربھی بہت سی تقریریں کیں اور مسلمانوں پرزور دیا کہ وہ کفار کے خلاف جہاد میں پوری طرح حصہ لیں۔ دوسری طرف انہوں نے اپنی جماعت کو ہدایت کی کہ ہرکارکن اپنی اپنی ہمت کے مطابق جہاد میں حصہ لے۔ اس کے علاوہ دفاعی فنڈ کے لیے ملک بھرمیں روپیہ پیسہ بھی جمع کیاگیا۔ قوم اول روزسے جماعت اسلامی اور سید مودوی کوامین اور دیانتدارجانتی ہے۔ چنانچہ جماعت اسلامی نے متاثرین جنگ اور جہاد فنڈ میں لاکھوں روپے،برتن،کپڑےاوردوسرا سامان جمع کرکے حکومت اور مہاجرین جنگ میں تقسیم کیا۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر بیماروں اور مہاجرین جنگ کے لیے شفاخانےبھی قائم کیےجہاں سے جنگی بیماروں اور متاثرین جنگ کامفت علاج کیاجاتا رہا۔ خود سید مودودی نے آزادکشمیر کا دورہ کیا۔ جگہ جگہ جہادِ کشمیر کے حق میں تقریریں کیں. انہوں نے ریڈیومظفرآباد پر بھی ایک تقریر کی. جولوگ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آزاد کشمیر پہنچے تھے ان کے حالات سن کر انہیں تسلی دی اور جماعت اسلامی نے جس حد تک مکن ہوسکا ان کی پوری پوری مدد کی۔ بھارتی فوج نے اپنے مکارانہ حملے میں سرحدی علاقوں کی جو مسجدیں شہیدکردی تھیں جماعت اسلامی نے انہیں تعمیر کرنے کا انتظام بھی کیا۔ جب جنگ ختم ہوگئی اور امدادی کام مکمل ہوگئے تو سید مودوی کے ساتھ ایوب خاں کی حکومت کا رویہ پھر ویسا ہی ہوگیا جیسا پہلےتھا۔
1967ء میں عید کے چاند کے مسئلے پر ایوب خاں نے شریعت کا مسئلہ بتانے کے جرم میں سید مودودی کوپھرگرفتار کرلیا اور دو ماہ تک بنوں جیل میں رکھا۔ 2ماہ کی نظر بندی کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ ایوب خاں چاہتا تھا کہ شریعت کا مسئلہ اس کے سرکاری مولوی ہی بتائیں اور سرکاری مولوی وہی کچھ بتاتے تھے جو ایوب خاں چاہتاتھا۔ وہ اسلام پر بھی کنٹرول کرناچاہتا تھا۔ ایوب خاں کا دور اسلام اور جمہوریت دونوں کے لیے تباہ کن دور تھا۔
حکومت بھی سمجھتی تھی کہ سید مودودی کی بات میں بہت اثر ہے اور تمام دیندار اور سمجھ دارلوگ انہیں مانتے ہیں اس لیے حکومت نے قائداعظم کی وفات کے بعد پہلی بار سید مودودیؒ کو ریڈیو پر تقریر کرنے کی دعوت دی۔ حالانکہ اس سےپہلے اور اس کے بعد بھی یہ ریڈیو ہمیشہ سید مودودی کے خلاف الزامات اور جھوٹ ہی اچھالتا رہاتھا۔ حکومت اور اس کے وزیروں نے بھی ہمیشہ سید مودودی کو بدنام کرنے کے لیے یہی مشہور کر رکھا تھا کہ مودودی تو پاکستان کے خلاف تھے مگر اس موقع پر ساری دنیا نے دیکھ لیا کہ سید مودودی اور ان کی جماعت ہر مشکل وقت میں قوم کی خدمت کرتے ہیں. وہ لوگوں کوطبی امداد دیتے، نادار طلبہ کو چندے جمع کر کے وظائف دیتےاورجنگ ہو یا سیلاب ہر حال میں قوم کے کام آتے ہیں۔ سید مودودی اور ان کی جماعت نے کشمیر کی آزادی کے لیے جہادمیں بھی پوری طرح حصہ لیااور بھارت کے خلاف جہاد میں بھی۔ سید مودودی نے ریڈیوں پربھی بہت سی تقریریں کیں اور مسلمانوں پرزور دیا کہ وہ کفار کے خلاف جہاد میں پوری طرح حصہ لیں۔ دوسری طرف انہوں نے اپنی جماعت کو ہدایت کی کہ ہرکارکن اپنی اپنی ہمت کے مطابق جہاد میں حصہ لے۔ اس کے علاوہ دفاعی فنڈ کے لیے ملک بھرمیں روپیہ پیسہ بھی جمع کیاگیا۔ قوم اول روزسے جماعت اسلامی اور سید مودوی کوامین اور دیانتدارجانتی ہے۔ چنانچہ جماعت اسلامی نے متاثرین جنگ اور جہاد فنڈ میں لاکھوں روپے،برتن،کپڑےاوردوسرا سامان جمع کرکے حکومت اور مہاجرین جنگ میں تقسیم کیا۔ اس کے علاوہ کئی مقامات پر بیماروں اور مہاجرین جنگ کے لیے شفاخانےبھی قائم کیےجہاں سے جنگی بیماروں اور متاثرین جنگ کامفت علاج کیاجاتا رہا۔ خود سید مودودی نے آزادکشمیر کا دورہ کیا۔ جگہ جگہ جہادِ کشمیر کے حق میں تقریریں کیں. انہوں نے ریڈیومظفرآباد پر بھی ایک تقریر کی. جولوگ مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آزاد کشمیر پہنچے تھے ان کے حالات سن کر انہیں تسلی دی اور جماعت اسلامی نے جس حد تک مکن ہوسکا ان کی پوری پوری مدد کی۔ بھارتی فوج نے اپنے مکارانہ حملے میں سرحدی علاقوں کی جو مسجدیں شہیدکردی تھیں جماعت اسلامی نے انہیں تعمیر کرنے کا انتظام بھی کیا۔ جب جنگ ختم ہوگئی اور امدادی کام مکمل ہوگئے تو سید مودوی کے ساتھ ایوب خاں کی حکومت کا رویہ پھر ویسا ہی ہوگیا جیسا پہلےتھا۔
1967ء میں عید کے چاند کے مسئلے پر ایوب خاں نے شریعت کا مسئلہ بتانے کے جرم میں سید مودودی کوپھرگرفتار کرلیا اور دو ماہ تک بنوں جیل میں رکھا۔ 2ماہ کی نظر بندی کے بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ ایوب خاں چاہتا تھا کہ شریعت کا مسئلہ اس کے سرکاری مولوی ہی بتائیں اور سرکاری مولوی وہی کچھ بتاتے تھے جو ایوب خاں چاہتاتھا۔ وہ اسلام پر بھی کنٹرول کرناچاہتا تھا۔ ایوب خاں کا دور اسلام اور جمہوریت دونوں کے لیے تباہ کن دور تھا۔
فوجی راج میں انتشار
سید مودودی ملک کی بگڑتی ہوئی حالت پر سخت غمزدہ تھے۔ یحیٰی خاں نے اپنے اقتدار کو ایوب خاں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے مزید طول دینے کے لیے مختلف بہانے بنانے شروع کردیے۔اس نے اعلان کیا کہ وہ نئے انتخابات کرائے گا اور پھر نیا دستور بھی بنائےگا۔ سید مودودی نے حکومت کو متنبہ کیاکہ نیاآئین بنانا اس انتشار کی حالت میں ممکن نہ ہوگااور مختلف مفادات رکھنے والے عناصر آپس میں جھگڑ کر ملک کو نقصان پہنچائیں گے۔اس لیے دستور سازاسمبلی بنانے کی بجائے قومی اسمبلی کا انتخاب کرایاجائےاور فی الحال معمولی ترمیم و اضافہ کے ساتھ 1956ء کے دستورکوہی نافذ کردیاجائے۔
انتخابات کا اعلان
عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ ہی ملک میں سیا سی سرگرمیوں کاآغاز ہوگیا اور سیاست میں تشدد نے داخل ہونا شروع کردیا۔ جن عناصر نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں فتنہ و فساد برپا کرکے یحیٰی خاں کو مارشل لاء لگانے کا موقع فراہم کیا تھا وہ پھر سرگرم عمل ہوگئے۔ جلسوں میں گڑ بڑ، گالی گلوچ،مارپٹائی اور سیاسی کارکنوں پر حملوں کا بازارہرطرف گرم ہوگیا۔ اشتراکی،سوشلسٹ، موقع پرست، قادیانی، بھارت کے ایجنٹ، روس اور امریکہ کے بہی خواہ غرض ہر ایک عنصر قوت و دولت کے ساتھ ایسا سرگرم ہوا کہ سیاست میں نظریہ پاکستان، اسلام، شرافت، اخلاق، دین غرض ہر چیز اس رو کی زد میں آگئی اور پورےملک میں اتنی افراتفری برپا ہوئی کہ ملک میں اسلام اور شرافت کامستقبل تاریک نظرآنے لگا۔ حد ہوگئی کہ لاہور اور ملتان میں قرآن پاک تک کو آگ لگا دی گئی اور ملک میں شیطانیت ننگا ناچ نانچے لگی۔ یحیٰی خاں کادور،دورِ انتشار تھا جس میں تاریخ کی طویل ترین انتخابی مہم چلائی گئی۔(1970ء کا پورا سال)
یومِ شوکت اسلام
اس موقع پر مشرقی پاکستان کے اشتراکی لیڈر مولانا بھاشانی نے پورے ملک میں اشتراکی انقلاب برپا کرنے کے لیے یکم جون 1970ء کو اعلان کردیا۔ تب سید مودودی نے اسلام کی عظمت و شوکت کا جھنڈا بلند کرنے کے لیے پورے ملک میں یومِ شوکتِ اسلام منانے کا اعلان کیا۔اس اعلان کے ساتھ ہی پورے ملک میں اسلام پسند قوتیں مستعد ہوگئیں۔ اگرچہ چند سیاسی عناصر نے سیاسی رقابت کی بنا پر اس کی مخالفت بھی کی لیکن 31مئی1970ء کوپورے ملک کے شہروں اور قصبات میں اتنے بڑے پیمانے پر شوکتِ اسلام مظاہرہ ہوا اور ملک بھر میں سینکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں جلوس نکلے جن میں کلمہ طیبہ کا ورد کیا گیا۔ ملک میں ایسا عظیم الشان اسلامی اجتماعات کا مظاہرہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ یہ دن پاکستان کی تاریخ میں یادگار رہے گا۔
تقسیم پاکستان کی سازش اور سید مودودی
جب مشرقی پاکستان میں بغاوت ہوئی تو بھارت نے باغیوں کی مدد کے لیے مشرقی پاکستان پرکھلم کھلا حملہ کردیا۔ اس وقت سید مودودیؒ اور ان کی جماعت نے ملک بچانے کے لیے بھارتی فوجوں، ہندوؤں اور سوشلسٹوں کامقابلہ کرنے کے لیے بڑی قربانیاں دیں لیکن بقول سید مودودی کے ملک نہ بچ سکا اور بھارتی فوج نے مشرقی پاکستان پر قبضہ کرلیا۔ ایک سازش کے تحت پاکستانی فوج کو حکم دے کر یحیٰی خاں نے بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈلوادیے جس سے ایک لاکھ سے زائد پاکستانی فوج اورشہری بھارت کی قید میں چلے گئے۔ مشرقی پاکستان کا علاقہ ملک سے زبردستی علیحدہ کردیا گیا اور 16دسمبر1971ء کو پاکستان دو ٹکڑے ہوگیا۔
تعمیر کی کوششیں
سید مودودی اسلام اور ملک کی خدمت کے لیے عمر بھر سر دھڑ کی بازی لگاتے رہے۔ انہوں نے اپنی ساری زندگی اسلام دشمنوں کے خلاف لڑنے اور اسلام کو ملک میں نافذ کرنے کی کوششوں میں صرف کی۔ آزاد پاکستان کے پورے عرصے میں حکمران جماعت سید مودویؒ اور ان کی جماعت کے خلاف طرح طرح کے مظالم کرتی رہی۔ سید مودودی کا بھروسہ ہمیشہ اپنے اللہ پر رہا۔ ان کی یہ امید ہمیشہ قائم رہی کہ ایک روز ملک میں مکمل اسلام نظام نافذ ہوکر رہے گا اور یہ ملک اسلامی نظام کے ذریعے ہی مضبوط اور مستحکم ہوگا۔
نومبر1972ء میں سید مودودی جماعت اسلامی کی امارت سےمسلسل خرابی صحت کی بنا پر علیحدہ ہوگئے۔اور ان کی زندگی کا کشمکش سے معمور ہنگامہ پرور دور ختم ہوگیا۔ اس طرح سید مودودی نے اپنی قوت و توانائی کی ساری زندگی اسلامی نظام برپا کرنے کی جدوجہد میں صرف کردی۔عزم وہمت اور عملی جدوجہد کےاعتبارسے سید مودودیؒ کی جوانی کادورایک نہایت ہی طویل دور ہے جو 1918 ء سے شروع ہر کر 1972 ء تک تقریبا 54 سال کے طویل عرصےپر پھیلا ہوا ہے۔ یہ طویل ترین جوانی کا دور ہے اس لیے کہ حقیقی جوانی عمر اور بال کی سیاہی و سفیدی یاجسم کی مضبوطی اور کمزوری پر منحصر نہیں ہے۔ جوانی مقصد زندگی،اس کے لیے جدوجہداور عزم وارادے کی پختگی،مضبوطی اور توانائی پر منحصر ہےاور حقیقت یہ ہے کہ سید مودودی کی جوانی نصف صدی سے زائد عرصے پر پھیلی ہوئی ہے اور وہ صدی کی طویل ترین جوانی ہے۔
بڑھاپا
سید مودودی کے بڑھاپے کا آغاز 4 نومبر 1972 ء کو ہواجب انہوں نے جماعت اسلامی پاکستان کی امارت سے علیحدگی اختیار کی۔ یہ علیحدگی انہوں نے ارکان جماعت سے اپیل کر کے حاصل کی جسے اکثریت نے قبول کرلیا۔ امارت سے علیحدگی کےلیےبیماری، بڑھاپے، ضعف و ناتوانی،جماعتی فرائض کی ادائیگی میں شدید جسمانی مشکلات کے مختلف عذراتِ شرعی موجود تھے۔ ارکان جماعت کی اکثریت نے ان کے عذرات کو قبول کیا .جنہوں نے یہ عذرات قبول نہ کیے ان کی بھی کافی تعداد تھی لیکن جماعت کے ضابطے کے آگے کسی کے لیے مجال دم زدن نہ تھی اور سید مودودی اپنی درخواست پر جماعت کی امارت سے رضاکارانہ طورپر علیحدہ ہوگئے۔ وہ 26 اگست 1941 ء کو امیر جماعت مقرر ہوئے تھے اور قیدو بند کے وقفہ کے علاوہ 31سال2ماہ اور8دن تک جماعت کی امارت پر رہنے کے بعد 4 نومبر 1972 ء کو ریٹائر ہوگئے۔ جس دن وہ باقاعدہ ریٹائر ہوئے ایک باقاعدہ تقریب منعقد ہوئی جس میں نئے منتخب امیر نے اپنے مستقبل کے عزم پر مشتمل ایک تقریر کی اور سید مودودی نے بھی اپنی الوداعی تقریرکی۔
سید مودودی کا بڑھاپے کا یہ دور بیشتر سیاسی مشاغل سے علیحدگی اور تصنیف و تالیف کے کاموں میں مزید انہماک کا دور ہے۔ انہوں نے سارا وقت تفہیم القرآن کی تصنیف و تالیف، نظرثانی، اس کی طباعت اور توسیع اشاعت پر مرکوز کردیا۔ جسے وہ مستقبل کا کام سمجھتےاور کہتے تھے۔ ان کا باقی وقت سیرتِ رسول اکرمﷺ کی تالیف پر صرف ہونے لگا،جوان کی دیرینہ آرزو تھی اور جسے وہ اپنی عمر بھر کے اس موضوع پرکیے ہوئے کام کی ترتیب و تدوین کے ذریعے انجام دے رہے تھے۔ اس کتاب کی قسط وار اشاعت رسالہ ترجمان القرآن میں ہوتی رہی ۔ ان کے علمی کارناموں سے محبت رکھنے والے ان کی اس عظیم کتاب کا انتظار بے تابی سے کرتے رہے۔
ان کے مشاغل میں عصر کے بعد کی ایک کھلی مجلس بھی تھی جس میں وہ اپنے ملاقاتیوں سے ملتے، ان سے باتیں کرتے،
ان کے مشاغل میں عصر کے بعد کی ایک کھلی مجلس بھی تھی جس میں وہ اپنے ملاقاتیوں سے ملتے، ان سے باتیں کرتے،
ان کے سوالات کے جوابات دیتے اور ان سے تھوڑی دیر مل بیٹھ کر انہیں مطمئن کرتے۔ ان مجلسوں میں ملکی حالات پربھی روشنی پڑتی ۔علم وادب کی گتھیاں بھی سلجھائی جاتیں، تصوف کی باتیں بھی ہوتیں، تعلق باللہ اور فکر آخرت کا ذکر بھی ہوتا، مخالفین کے اعتراضات کے جوابات بھی دیےجاتے اور سب سے بڑی بات یہ کہ لطائف و سخن لطیف بھی مجلس کی نشاطِ روح کاسامان پیداکرتے۔ مجلس خوش خوش بیٹھتی اور مطمئن و مسرور اٹھتی۔
تفہیم القرآن
اس دور میں سید مودودی کا بیشتر وقت تفہیم القرآن کے کاموں پر صرف ہوتا۔ اسے وہ آئندہ نسل کے حق کی ادائیگی کہتے،اور ٹھیک ہی کہتے۔ بلاشبہ اس کی تالیف کے ذریعے انہوں نے آئندہ نسل کا حق ادا کردیا۔ داخلی اور خارجی دونوں پہلوؤں سے انہوں نے یہ ذمہ داری بہت خوبی سے ادا کی۔ چودھویں صدی ہجری میں اس عظیم کتاب کی تالیف نے اس صدی کو یادگار بنا دیا،اس عظیم علمی خدمت کو مسلمانوں کی تاریخِ علم وادب کبھی فراموش نہ کرسکےگی۔اس کتاب نے لوگوں کی زندگیوں کےرخ بدل دیے،یہ وہاں تک پہنچی جہاں تک سید مودودی کی دیگر تصانیف نہ پہنچ سکتی تھیں۔اس نے جدید طبقے کو بھی مسخر کیاہےاورقدیم طبقے نے بھی اقامت دین کا سبق اس کتاب سے سیکھا ہے۔ اسے پڑھ کر انسان کی زندگی قرآنی بحرذخار میں غوطہ زن ہوجاتی ہے۔
ایک دانشور کا چیلنج
مشہور دانشور مسٹر اے کے بروہی قانون کے عظیم اسکالراورعالمی سطح کے قانون دان تھے. ان کی قانون پر تصانیف عدالت ہائے عالیہ تک میں حوالے کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ سید مودودی نے جب تشکیل پاکستان کے بعد آغازِ سفرکے طور پر ملک میں اسلامی دستور کا مطالبہ اٹھایا تو اس وقت ملک و ملت دونوں اسلام میں کسی نوعیت کے دستور کے تصور سے بے خبر تھے۔ نعرے کے طور پر بلاشبہ یہ کہہ دیاجاتا تھا کہ ہمارادستور قرآن ہے لیکن دستور کے جدید تصورات کے پیشِ نظر پورے قرآن کا دستور ہونا جس طرح ایک عامی مسلمان کو مطمئن کرسکتا ہے ایک قانون دان کو مطمئن نہیں کرسکتا۔ چنانچہ اِنھی ایام میں جناب بروہی صاحب نے یہ اعلان اخبارات میں شائع کرایا جو سید مودودی کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا کہ جو شخص قرآن سے جدید دستورکی بنیادیں نکال کردکھائے اسے پانچ ہزار روپیہ انعام دیاجائے گا۔ ایک بندہ مومن کے لیے اس سے بڑا انعام توکوئی نہیں ہوسکتا کہ ایک بندہ خدا راہِ راست پر آجائے۔ چنانچہ سید مودودی نے "اسلامی دستورکی قرآنی بنیادیں"کے موضوع پر کراچی میں ہی تقریر کی اور قرآن میں سے کھول کھول کر جدید دستور کے مطابق حاکمیت سے لے کر بنیادی حقوق تک ساری دستوری بنیادیں قرآن سے نکال کر دکھادیں۔ اس کے بعد سے جناب بروہی سید مودودی کے علم وفضل کے پوری طرح قائل ہوگئے۔
سیرت رسول اکرمﷺ
سید مودودی تفہیم القرآن کی تیس سالہ طویل علمی مسافت طے کرنے کے بعد کمر کھول کر نہیں بیٹھ گئے۔ انہوں نے اپنے اول روز کے علمی منصوبوں کو سامنے رکھتے ہوئے تفسیر قرآن کے بعد حامل قرآن اور مجسم خلق قرآن حضوراکرم کی سیرت مرتب کرنے کے کام کا آغاز کردیا۔ اس سلسلے میں بعض علمی احباب نے مؤثر تعاون کیا اور سید مودوی کے لٹریچر خصوصاً تفہیم القرآن کی سورتوں کے دیباچوں اور حاشیوں میں سے سیرت، دعوت اور کارنامہ نبوت پر مشتمل بکھرے ہوئے بے شمار مواد کو اکٹھا کرکے مرتب کردیا جس سے ہزاروں صفحات پر مشتمل سیرت کی ایک ضخیم کتاب کاڈول ڈالا گیا اور پھر سید مودودی کے لیے بھی آسان ہوگیا کہ وہ سیرت کے اس ذخیرہ میں تاریخی اور واقعاتی ترتیب کا لحاظ رکھتے ہوئے خلا پُرکریں۔ سید مودودی نے تفہیم سے فراغت کے بعد یہ کام شروع کردیا۔ بلاشبہ یہ بھی ایک بھاری علمی کام ثابت ہوا جس کے سبب سید مودودی کے اوقات کا بڑا حصہ اس کام میں صرف ہونے لگا لیکن ساتھ ہی اس طریقے سے سیرت پر ایک قابل قدر تالیف بھی تیا رہوگئی جواردوادب میں اور سیرت النبیﷺ کے عظیم ذخیرے میں قابل قدر اضافہ ہے۔اس میں دعوت اسلامی اور عالمگیر دعوت کے موثرترین ابواب شامل ہیں۔
سید مودودی علیہ الرحمۃ کےبیرونی دنیا کے سفر اور کام
1956 ء سے لے کر 1974 ء تک کے عرصے میں آپ نے دنیا کے مختلف حصوں کا سفر کیا۔ اس دوران وہاں موجود مسلمانوں کوآپ سے ذاتی طور پر مستفیض ہونے اور آپ کی صلاحیتوں کا لوہا ماننے کا موقع ملا۔ دوسری جانب یہ سفرخودسید مودودی کے لیے بھی معلوماتی ثابت ہوئے۔ انہوں نے ان سفروں کے دوران دنیا کے ان حصوں کی زندگی کے حقائق کو بذات خود دیکھا اور لوگوں سے استفادہ کیا۔ اپنے متعدد دوروں کے دوران انہوں نے قاہرہ، دمشق،عمان، مکہ ،مدینہ،جدہ، کویت، رباط، استنبول،لندن،نیویارک،ٹورنٹوکے علاوہ کئی بین الاقوامی مراکز پر لیکچر دیے۔ انہی سالوں میں آپ نے 10عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی۔
1959 ءاور 1960 ء میں قرآن پاک میں مذ کور مقامات کی جغرافیائی کیفیت کا مشاہدہ کرنے کےلیے سعودی عرب، اردن،(بشمول یروشلم)شام اور مصر کا تفصیلی مطالعاتی دورہ کیا۔ انہیں مدینہ یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں مدعو کیاگیا۔ اس یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کے 1962 ء تک اس کے قیام سے رکن تھے۔آپ رابطہ عالم اسلامی کی فاؤنڈیشن کمیٹی کے رکن بھی تھے۔ اور اکیڈمی آف ریسرچ آن اسلامک لاء مدینہ کے بھی رکن تھے۔ مختصر یہ کہ سید مودودی مسلمانوں پراثرات کے حوالے سے ایک مینارہ نور تھے۔انہوں نے مسلمانوں کی فکرکو بالکل اس طرح متاثر کیا ہے جیسے ہمالیہ اور الپس اپنی جگہ سے ہلےبغیرایشیاء اور یورپ کے موسم اور آب و ہوا کو بدل کررکھ دیتے ہیں۔
1959 ءاور 1960 ء میں قرآن پاک میں مذ کور مقامات کی جغرافیائی کیفیت کا مشاہدہ کرنے کےلیے سعودی عرب، اردن،(بشمول یروشلم)شام اور مصر کا تفصیلی مطالعاتی دورہ کیا۔ انہیں مدینہ یونیورسٹی کے قیام کے سلسلہ میں مدعو کیاگیا۔ اس یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل کے 1962 ء تک اس کے قیام سے رکن تھے۔آپ رابطہ عالم اسلامی کی فاؤنڈیشن کمیٹی کے رکن بھی تھے۔ اور اکیڈمی آف ریسرچ آن اسلامک لاء مدینہ کے بھی رکن تھے۔ مختصر یہ کہ سید مودودی مسلمانوں پراثرات کے حوالے سے ایک مینارہ نور تھے۔انہوں نے مسلمانوں کی فکرکو بالکل اس طرح متاثر کیا ہے جیسے ہمالیہ اور الپس اپنی جگہ سے ہلےبغیرایشیاء اور یورپ کے موسم اور آب و ہوا کو بدل کررکھ دیتے ہیں۔
غیر ملکی زبانوں میں تبلیغ اسلام
بیرون ملک بھی سید مودودی نے اسلام پاکستان اور مسلمانوں کی خدمات سرانجام دی ہیں۔ سید مودودی نے بے شمار کتابیں لکھ کر مسلمان قوم کو اسلام سمجھانے کی کوشش کی۔ یہ کتابیں بیشتر اردو میں ہیں لیکن سید مودودیؒ کی تصنیفات کا عربی،انگریزی،فارسی،ترکی، بنگالی،جرمن،فرانسیسی، ہندی،جاپانی، ساحلی، تامل،تلنگو سمیت بائیس زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ پوری دنیا انہیں ایک عظیم اسلامی مفکر،پختہ عزم مسلمان،اسلامی رہنما اور ایک بہت بڑے مصنف کی حیثیت سے جانتی ہے۔عرب ملکوں میں خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقہ ان کا بے حد مداح ہےاوران کا بے حد احترام کرتا ہے اور انہیں"الاستاذمودودی" اور "السید مودودی" کہہ کر پکاراجاتا ہے۔ جبکہ مدینہ یونیورسٹی،ریاض،سوڈان،مصر اور دیگر کئی ممالک میں سید مودودی کی کتابیں نصاب تعلیم کا حصہ ہیں۔ انہوں نے مسئلہ کشمیر پربھی عربی زبان میں مختلف مضامین اور کتابچے لکھےاوراپنے وسائل سے انہیں عرب ملکوں میں پھیلایا اور یوں عرب مسئلہ کشمیر کی حقیقت سے آگاہ ہوئے۔ اس طرح ان میں پاکستان کے بارے میں جو غلط فہمیاں پائی جاتی تھیں، ان کو بھی دور کیا۔
بہت سے غیر مسلم سید مودودی کی کتابیں پڑھ کر مسلمان ہوئے۔ ان کی یہ کتابیں ہر پڑھنے والے کا دل اسلام کے لیے کھول دیتی ہیں۔ اسلام سمجھانے میں اللہ تعالیٰ نے سید مودودی کو ایک خاص ملکہ عطافرمایا تھا۔
بہت سے غیر مسلم سید مودودی کی کتابیں پڑھ کر مسلمان ہوئے۔ ان کی یہ کتابیں ہر پڑھنے والے کا دل اسلام کے لیے کھول دیتی ہیں۔ اسلام سمجھانے میں اللہ تعالیٰ نے سید مودودی کو ایک خاص ملکہ عطافرمایا تھا۔
دینِ اسلام کا سپاہی
سید مودودی دین اسلام کے عظیم مجاہد اور بہادرسپاہی ہیں۔ انہوں نےباطل کے طوفانوں میں بھی ہمیشہ اسلام کی بات کی ہےاور صرف اسلام کے لیے کی ہے۔ وہ ہر دور میں یہی کہتے رہے ہیں کہ اگر ملک میں اسلام نافذ کردیاجائے تو میں اسلامی نظام میں ایک چپڑاسی کی حیثیت سے بھی کام کرنے کوتیار ہوں۔ ان کے ایثار وقربانی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نےاپنی لاکھوں روپے آمدنی والی کتابیں اسلام کےکام کےلیےوقف کردیں۔
سید مودودی کا پیغام
سید مودودی کا پیغام یہ ہےکہ
"قرآن کی دعوت لے کر اٹھو اورساری دنیا پر اس طرح چھاجاؤ جس طرح حضوراکرمﷺ اور ان کے ساتھی چھاگئے تھے"نئی نسل کےلیے بھی سید مودودیؒ کا یہی پیغام ہے۔
"قرآن کی دعوت لے کر اٹھو اورساری دنیا پر اس طرح چھاجاؤ جس طرح حضوراکرمﷺ اور ان کے ساتھی چھاگئے تھے"نئی نسل کےلیے بھی سید مودودیؒ کا یہی پیغام ہے۔
معبودِ حقیقی کی طرف کوچ
1979 ء میں سید مودودی کے گردے کی پہلے سے موجود خرابی بگڑ گئی اور اس پر مستزاد دل کی تکلیف تھی۔ آپ علاج کےلیےبفیلو، نیویارک چلے گئے جہاں ان کے بڑے سے چھوٹے صاحبزادے بطورمعالج کام کررہے تھے۔ بفیلو میں بھی آپ کی فکری مشغولیت جاری رہی۔ آپ رسول اللہﷺ پر مغربی مفکرین کے کام کو ملاحظہ کرتے یا پھر مسلم رہنماؤں، اپنے خیر خواہوں اور ہم خیالوں سے ملاقاتیں کرنے میں اپنا وقت گذارتے۔ آپ کے چندآپریشن بھی ہوئےمگر 76 برس
کی عمر میں 22 ستمبر 1979 ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔ آپ کاپہلا جنازہ بفیلو میں پڑھا گیا اور پھرآپ کا جسدِ خاکی پاکستان لایا گیا اورلاہور کےقذافی سٹیڈی