درسگاہوں میں ثقافت کے نام پر کثافت کا فروغ ناپسندیدہ ہے۔ درس گاہوں کا وقار قائم رکھنے کے لیے پنجاب اسمبلی میں منظور کی جانے والی قرارداد احسن اقدام ہے۔ جماعت اسلامی خواتین
لاہور26جنوری2012ء: بچوں کے تحفظ اوردرس گاہوں کا وقار قائم رکھنے کے لئے پنجاب اسمبلی میں منظور کی جانے والی قرارداد کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے سابق ایم این اے اور ویمن اینڈ فیملی کمشن جماعت اسلامی کی صدر ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے فون پر قائد لیگ کی رکن سیمل کامران کو جماعت اسلامی خواتین کی طرف سے تعاون کا یقین دلایا انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے میوزیکل اکیڈمی نہیں ہیں والدین اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت کے لئے انہیں درسگاہوںمیں بھیجتے ہیں تعلیم اور رقص و سرور متضاد عنوان ہیں اس تناظر میں تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی غیر اخلاقی سرگرمیوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی تلافی کون کرے گا میحہ راحیل نے اس حوالے سے گزشتہ دنوں لاہور میںنجی تعلیمی ادارے کے میوزک کنسرٹ کے دوران بھگدڑ میں تین طالبات کی ہلاکت پر بھی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں قابل اعتراض میوزیکل کنسرٹس پر پابندی پر شورمچانے والے طالبات کی ہلاکت پر کیوں خاموش رہے ، ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ حکومت اس سلسلے میں فوری ایکشن لیتی مگر میڈیا سمیت تمام مقتدر حلقوں کی خاموشی نے عوام کومایوس کیا اب اگر ایمل کامران نے وقت کی ضرورت کے پیش نظر ایک قرارداد پیش کی ہے تو اس پر واویلا مچانا حیران کن ہے ہمیں اپنی نوجوان نسل کا اخلاق و کردار اور تعلیمی مستقبل عزیز ہے پاکستان کو ارفع کریم جیسے ہونہاروں کی ضرورت ہے۔طلبہ و طالبات کے لئے صحتمند اور ہم نصابی سرگرمیوں پرکسی کو اعتراض نہیں مگرتعلیمی ادارں میں ثقافت کے نام پر کثافت کا فروغ ناقابل برداشت ہے۔سمیھہ راحیل قاضی اس سلسلے میں ایمل کامران کے ساتھ جلد ہی پریس کانفرنس کریں گی