اسد اللہ بھٹو کی طرف سے کراچی میں وکلاء کے بہیمانہ قتل کی مذمت، احتجاج کی حمایت

  • Bookmark and Share
کراچی25جنوری2012ء: جماعت اسلامی سندھ کے امیر وسابق رکن قومی اسمبلی اسداللہ بھٹو ایڈووکیٹ نے کراچی میں وکلاءکے بہیمانہ قتل کے واقعے کی سخت مذمت اور وکلاءکے اعلانیہ بائیکاٹ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت وکلاءسمیت شہریوں کی جان ومال کی حفاظت میں ناکام ثابت ہوئی ہے ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں ملوث دہشتگردوں کو گرفتار کرکے عبرت ناک سزا اور وکلاءسمیت شہریوں کو امن فراہم کیا جائے ۔ انہوں نے آج ایک بیان میں مزید کہا کہ کراچی کے مسئلے پر سپریم کورٹ کی جانب سے ازخود نوٹس، فیصلے اور مانیٹرنگ کے نتیجے میں کراچی میں کچھ عرصہ کےلئے امن قائم ہوا تھامگر اب اچانک وکلاءکی ٹارگٹ کلنگ سمیت تشدد کی حالیہ لہر نے پوری قوم کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ اپنی مانیٹرنگ کو بہتر بنائے اور کراچی کے شہریوں کو امن وانصاف فرام کرنے کےلئے اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں محب وطن ودینی جماعتوں جماعت اسلامی،جے یو آئی اور دفاع پاکستان کونسل کی جانب سے جلسوں کا اعلان ہوتے ہی کراچی کو دہشتگردی کی لپیٹ میں دینا ایک خوفناک سازش کا کھلا ثبوت ہے،جس میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔اس سے پہلے کراچی سمیت پورے ملک میں دہشتگردی کے واقعات میں سی آئی اے ،را اور موساد کے ملوث ہونے کا اقرار حکومتی ذمہ دار کرچکے ہیں ۔حال ہی میں امریکہ نے پاکستان میں ایک خصوصی میڈیا سیل قائم کیا ہے تاکہ امریکہ کی اسلام دشمن اقدامات اور مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کو دبایا جاسکے ۔ایک سروے کے مطابق 80%فیصد عوام امریکہ کی اسلام اور انسانیت دشمن پالیسیوں سے نفرت کرتے ہیں لہذااس طرح کے واقعات ایک طرف عوام کے اندر امریکہ سے نفرت کے بڑھتے ہوئے رحجان سے توجہ ہٹانے اور دوسری طرف شیعہ وسنی فساد کرواکر اسلام ومسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے صوبائی امیر نے کہا کہ جماعت اسلامی وکلاءکے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتی ہے اور قوم سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ وکلاءکے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرکے دہشتگردوں اور بیرونی سازشوں کو ناکام بنادیں ۔