نیٹو سپلائی بحال کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف جماعت اسلامی 3 فروری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقعہ پر احتجاجی دھرنا اورپارلیمنٹ ہاؤس کا گھیراؤ کرے گی۔ لیاقت بلوچ

  • Bookmark and Share

لاہور26جنوری2012 ء:جماعتِ اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے نیٹو سپلائی بحال کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف 03 فروری کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس کا گھیراکرنےاور احتجاجی دھرنا دینے کااعلان کرتےہوئےکہا ہےکہ امریکہ میموگیٹ ایشو پرصدرزرداری اور انکی ٹیم کو ریسکیو اور بیل آوٹ کرنےکےلیےسامنے آچکا، چند ٹکوں کی امداد کے لیے پاکستانی قوم کو ازسرنو امریکی غلامی اور ذلت و رسوائی میں دھکیلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

          جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل منصورہ کے پریس ریلیز کے مطابق جمعرات کو دفتر جماعتِ اسلامی اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعتِ اسلامی کی مجلس شوریٰ نے قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کو مسترد کردیا ہے۔ پروفیسر خورشید احمداور دیگر نمائندے کمیٹی کو تحریری طور پر آگاہ کردیں گے، ضرورت پڑی تو جماعتِ اسلامی احتجاجاً پارلیمانی کمیٹیوںسے اپنے نمائندے واپس بلانے سمیت دیگر راست اقدام کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آج اسلام آباد میں جماعتِ اسلامی پنجاب، بالخصوص راولپنڈی، اسلام آباد کی کی قیادت کا اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ 03 فروری کو جماعت اسلامی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے موقعہ پر ایک بڑا احتجاجی دھرنادے گی اور پارلیمنٹ ہاوس کا گھیراو کرے گی، کیونکہ ہماری اطلاعات کے مطابق حکومت نیٹو سپلائیز کی بحالی کے لیے پارلیمنٹ کا کندھا استعمال کرنے والی ہے۔ اس موقعہ پر ہمار ادھرنا اور احتجاج قوم کے جذبات کی ترجمانی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا فیصلہ کیا گیا تو جماعتِ اسلامی دفاعِ پاکستان کونسل کی جماعتوں کے ساتھ مل کر کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے کشمیر تک احتجاجی دھرنے اور مظاہرے کرے گی اور نیٹو سپلائیزکو بحال نہیں ہونے دے گی۔انہوں نے کہا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد پوری قوم کا متفقہ فیصلہ تھا کہ نیٹو اور امریکی افواج کی سپلائی لائن منقطع کردی جائے۔ لیکن حکومت اب اسی طرح پسپائی اختیار کررہی ہے جس طرح کشمیر پر پسپائی اختیار کی گئی اور بھارت کو ”موسٹ فیورٹ نیشن“ قرار دینے کے لیے بے تابی کا مظاہرہ کیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ یہ سارا کھیل پاکستان کو ناکام ریاست قرار دینے کے لیے کھیلا جارہا ہے، تاکہ پاکستان کو کشمیر پر پسپا کردیا جائے اور اس کے دریاوں کاپانی روک کر اسکی زراعت کو بنجر کردیا جائے۔انہوں نے کہاکہ اب پاکستان کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ امریکہ ایران پر معاشی پابندیوں کے بعد اب فوجی کارروائی کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں امریکہ اور نیٹو کی سپلائی لائن کھولنے کا فیصلہ خودکشی اور بلنڈر ہوگا۔ یہ امریکہ کا ساتھ دینے کا نہیں بلکہ امریکہ کو خطے سے بے دخل کرنے کا موقع ہے۔ اگر پاکستان، افغانستان اور ایران اس مقصد کے لیے یکسو ہوجائیں تو روس اور وسط ایشائی ریاستیں ساتھ دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو سپلائی بند کرنے اور شمسی ائربیس خالی کرانے کے فیصلے سے پاکستان کی عزت کی بحالی کا سفر شروع ہوا تھا، جسے ترک کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ اس لیے ہم صدر اور وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بزدلانہ فیصلے سے باز رہیں۔ الیکشن کے سال میں اپنی مدت ختم ہوتی پارلیمنٹ کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اس قدر اہم پالیسی ساز فیصلہ کرے۔ یہ اختیار آنے والی پارلیمنٹ کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم قومی سلامتی کمیٹی کی سفارشات کو مسترد کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان سفارشات کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش نہ کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی نے کبھی خفیہ ایجنسیوں سے روپے حاصل نہیں کیے۔ اس حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں اور ہم سپریم کورٹ میں ان الزامات کا دفاع کریں گے۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے پہلے ہی واضح کردیا ہے کہ خودمختار اور غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے قیام کے بغیر شفاف اور غیر جانبدارانہ الیکشن کاا نعقاد ممکن نہیں ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد نئے چےئرمین کی تقرری کا طریقہ کار طے کردیاگیا ہے، جس پر عملدرآمد ہونا چاہیے۔