حکومت کے لیے آخری موقع

  • Bookmark and Share

سیدمنورحسن

 

گزشتہ کچھ عرصے سے امریکہ بہادر نے پاکستانی قوم، حکومت اور افواج کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کیا ہے،اور جس تندی وترائی کے ساتھ امریکی اہلکار پاکستانی قوم کو ڈرانے اور ڈرون حملوں سے ایک قدم آگے بڑھ کر طیاروں سے بمباری اور براہ راست فوجی کارروائی کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں، اس سے قوم کے اندر اضطراب اور پریشانی کی کیفیت پیدا ہوئی ہے ۔ حکومتی کارکردگی اور ٹریک ریکارڈ ایسا نہیں ہے کہ اس پر اعتبار کیا جائے لیکن قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر وزیر اعظم کی آل پارٹیز کانفرنس میں تحفظات کے باوجودتمام مذہبی و سیاسی جماعتوں نے شرکت کی۔ بحیثیت مجموعی اچھی فضا اور اچھے ماحول کے اندرمنعقد ہونے والی یہ کانفرنس اس لحاظ سے آرگنائز نہیں تھی کہ اس میں ایسی انجمنوں اور تنظیموں کو بھی مدعو کرلیا گیا جو ’لاکھ کہیں کہ ہے پر نہیں ہے ‘والی کیفیت سے دوچار ہوتی ہیں ۔ بڑی تعداد میں لوگوں کو بلانے اور سب کو بات کرنے کا موقع دینے سے کانفرنس خاصی طویل ہوگئی ، اورطوالت افادیت کو تحلیل کردیتی ہے۔ فیصلے کی گھڑی کے وقت شرکا چاق و چوبند نہ ہوں تو بالعموم منتظمین کے لیے حسب منشا فیصلے کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ البتہ سول اور فوجی قیادت کی ایک ساتھ موجودگی ایک اچھا پیغام تھا۔ فوجی قیادت کو موجودہ پالیسی کی ناکامی اور غلطیوں کے بارے میں عوامی احساسات سے براہ راست آگاہی حاصل ہوئی ۔ بلوچ قوم پرستوں کی نمائندگی بھی ہوتی توکانفرنس کی معنویت دوچند ہوسکتی تھی۔

 

آل پارٹیز کانفرنس میں جماعت اسلامی کی طرف سے جہاں معاشرے کے ایک عام فرد کو دکھوں سے نجات دلانے کے لیے غربت و جہالت ،مہنگائی و بے روزگاری ، لاقانونیت و بدامنی کے خاتمے ،اورجان ومال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی بات کی گئی وہیں اجتماعی دائرے میں روا رکھے جانے والے ظلم یعنی فاٹا، خیبر پختونخوااور بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن کو روکنے اور اس کی جگہ امن کو موقع دینے کی طرف توجہ دلائی گئی۔بڑی شرح و بسط کے ساتھ یہ مقف پیش کیا گیا کہ ملک میں دہشت گردی کے مرتکب تمام گروہ ایک جیسے نہیں ہیں، اس لیے ان سب کو ایک لاٹھی سے ہانکنا درست نہیں ہے۔ان میں ایک بڑا گروہ وہ ہے جوہماری اس افغان پالیسی کو غلط سمجھتا ہے جس کے نتیجے میں افغانستان کی پاکستان دوست حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔اس گروہ کے لوگ اس پالیسی سے ناراض، مشتعل اور ردعمل کا شکار ہیں۔ انھیں راہ راست پر لانے کے لیے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے ان سے بات کرنی ہوگی ، اس کے نتیجے میں غلط فہمیاں رفع ہوں گی۔ دوسرا گروہ امریکہ اور بھارت اور اسرائیل کے ایمااور افغانستان کے شمالی اتحاد کے تعاون سے دہشت گردی کا مرتکب ہو رہا ہے۔ یہ گروہ ملک کے اندر انارکی اور افراتفری پھیلانا چاہتا ہے،اور ریاست پر سے عوام کے اعتماد کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ اس گروہ سے نمٹنے کے لیے ایک دوسری حکمت عملی اختیار کرنی ہوگی۔ہمارے انٹیلی جنس نظام میں یہ صلاحیت موجودہے کہ وہ آگے بڑھ کر ان عناصر کاہاتھ پکڑ سکے اوران کا نام لے سکے ۔تیسراگروہ وہ ہے جس سے ہمارے ”ذمہ داروں“نے وعدے کیے اورافغانستان اور جہاد کے حوالے سے یقین دہانیاں کرائیں۔ انھیں جہاد کے نام پر ،اور پیسے دے کراکسایا گیا۔کچھ عرصے بعد اس گروہ کو یہ احساس ہوا کہ اس سے کیے جانے والے وعدے پورے نہیں ہورہے اوراسے کسی اور سمت میں لے جایا جا رہا ہے۔ وعدہ خلافی اور امریکی دبا میں پالیسی بنانے کی وجہ سے یہ گروہ تشدد کا مرتکب ہے۔

 

                اگرحکومت اور ریاست کہیںموجود نہیں ہوگی اور گھرکے اندر بدنظمی اور انتشارکی کیفیت ہوگی تو امریکہ وہی لب ولہجہ اختیار کرے گا جوآج اس کا اسلوب ہے۔فوجی قیادت پر واضح ہوگیا ہے کہ اس کے رویے اور غلط پالیسی نے قوم کے ساتھ ان دوستوں کو بھی مایوس کیا ہے جو پاکستان کو ایک مضبوط ملک کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس صورتحال سے نکلنے کے لیے کانفرنس میں ایک سیاسی پیکیج کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔اورفاٹا، خیبر پختونخوا،بلوچستان اور کراچی کے حالات کو درست کرنے کے لیے حقیقی معنوں میں امن کو کام کرنے کا موقع دینے ،اورمذاکرات کی میز بچھاکرڈائیلاگ اورجرگے کی سیاست کرنے کی بات کی گئی۔ متفقہ طور پر منظور ہونے والی قرارداد اسی نکتے کی عکاس ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ پارلیمنٹ اور گزشتہ اے پی سی کی متفقہ قراردادیں ابھی تک تشنہ تکمیل ہیں اور حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلوں کوبھی سوالیہ نشان بنایا ہے اس لیے لوگوں کو یقین نہیں ہے کہ اس قرارداد پر عملدرآمد ہوگا۔ کانفرنس میں بجاطور پر یہ شکوہ سامنے آیا کہ اچھی سے اچھی قرارداد بے معنی ہے اگر اس پر عمل نہ کیاجائے۔ اس لیے ایک پارلیمانی کمیٹی کے ذمہ لگایا گیا کہ وہ موجودہ اور پچھلی قراردادوںکا جائزہ لے اور ہر مہینے سفارشات پر عملدرآمد کی رپورٹ پیش کرے۔

 

 آئین کے مطابق پارلیمنٹ سپریم ادارہ ہے ، پالیسیاںبنانا اس کا کام ہے ، ان پر عملدرآمدحکومت کی ذمہ داری ہے۔فوج اس کے ماتحت ہے۔ اس کانفرنس میں موجود سیاسی قیادت نے حکومت کویہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنی ایگزیکٹو اتھارٹی کو تسلیم کروائے ۔اس قرارداد پر عملدرآمد کے حوالے سے پہلا کام یہ ہونا چاہیے کہ جو مقف پارلیمنٹ نے اپنی متفقہ قرارداد میں اپنایاتھا اس پر عملدرآمد کیا جائے۔ آزاد خارجہ پالیسی کی طرف پیش قدمی کی جائے اور اس کی ایک علامت کے طور پر واضح لفظوں میں شمالی وزیرستان میں کوئی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا جائے، امریکہ کودی جانے والی لاجسٹک سپورٹ ختم کی جائے اور ڈرون حملوںکے خلاف سٹینڈ لیا جائے۔پچھلے دس سال کے اندر اگر کسی کے ذہن میں یہ بات واضح نہیں تھی تو اب واضح ہوگئی ہے کہ اس خطے میں پاکستان اور امریکہ کے مفادات متضاد اور متصادم ہیں ۔ ان دونوں کے درمیان کوئی مشترک علاقہ نہیں ہے۔ امریکہ بھارت کے ساتھ جومعاملہ کررہا ہے ، وہ ہمارے لیے سوالیہ نشان ہے۔وہ چین کا قدکاٹھ کم کرنا اور ایران کو دبائے رکھنا چاہتا ہے، اور سنٹرل ایشیا کے معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔جب ان تمام معاملات میں پاکستان کاسٹریٹجک مفاد امریکہ سے مختلف ہے تو حکمت عملی بھی اس سے الگ ہونی چاہیے۔ تجربے سے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ہم نے دس سال ضائع کیے ہیں اور منتخب حکومت نے پرویز مشرف کی پالیسی کو جاری رکھ کربھیانک غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ اگر اب بھی حکومت قراردادوں پر عمل نہیں کرے گی اور اپنے پاس موجود آخری موقع کوامریکی خوف اور خوشنودی کے لیے ضائع کردے گی تو اس سے معاشرے میں کھلبلی مچ جائے گی اور عوام سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ اب تک بہت پرامن طریقے سے احتجاج ہوتا رہا ہے لیکن حکومت پر سے عوام کا اعتبار ختم ہوگیا تو احتجاج کوئی بھی رخ اختیار کر سکتا ہے،اورحکمرانوں کے لیے اپنی کرسیاں بچانا مشکل ہوسکتاہے۔

                میاں نواز شریف نے کانفرنس میں اپنا تجزیاتی نقطہ نگاہ پیش کیا اوربہت سارے اہم گوشوں سے پردہ اٹھایا۔ان کے تقریر کے بعض حوالوں کو سامنے رکھتے ہوئے آرمی چیف نے وضاحت کی اور ان کے اٹھائے ہوئے سوالات کا جواب دیا۔ میاں صاحب کی تقریر کے کچھ دیر بعد میں نے اظہار خیال کیا اور اپنی گزارشات پیش کرنے کے ساتھ میاں صاحب کی خدمت میں یہ عرض کیا کہ آپ کی تقریر بہت اچھی تھی لیکن بعض باتیںمفاہمت کی پالیسی کے نتیجے میںپیپلزپارٹی سے اکیلے بیٹھ کر کی جا سکتی ہیں۔ آرمی کے سینئر ترین لوگ یہاں موجود ہیں، ان کے پاس جاکر اورانھیں اپنے پاس بلاکروضاحت مانگ سکتے ہیں۔ اتنے بڑے فورم میں بعض باتیں بعض اوقات ذراچبھتی اورمحسوس ہوتی ہیں۔میاں صاحب نے بہت اچھے ماحول میں اس بات کو سنا۔لیکن اس کوایسے رپورٹ کیاگیا جیسے کوئی گرماگرمی یا تلخی ہوئی ہے ۔ اس غلط رپورٹنگ کا نقصان یہ ہوا کہ کانفرنس میں جماعت اسلامی کی طرف سے پیش کیاجانے والامقف سامنے نہیں آ سکا۔ میرے خیال میں اس آل پارٹیز کانفرنس نے ان تمام جماعتوں کو ساتھ چلنے کا موقع فراہم کیا ہے جو آزادی و خودمختاری اور قومی سلامتی کا تحفظ، اور اے پی سی میں منظور کی جانے والی قرارداد پر عملدر آمد اور منطقی نتائج کو حاصل کرناچاہتی ہیں۔ایک اچھی قرار داد کی منظوری کے بعد اگر خاموشی اختیار کر لی جائے گی، اورمیدان عمل کے بجائے اب بھی ڈرائنگ روم کی سیاست کو ترجیح دی جائے گی توملک میں موجود امریکہ و بھارت اور شمالی اتحاد کی لابیاںقرارداد پر عملدرآمد اور خودانحصاری کے راستے میں رکاوٹ ڈالیں گی۔حکومت پر دبا برقرار رکھنااوراس میں مسلسل اضافہ کرناوقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔